نیب خود اپنے احتساب کےلیے سامنے ہے، چئیرمین نیب

77

لاہور: چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نےکہا ہے کہ نیب خود اپنے احتساب کےلیے سامنے ہے، منی لانڈرنگ جرم ہے، یقین دلاتاہوں ٹیکس سے بچنے کا کوئی کیس نیب کے پاس نہیں ہوگا، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ مختلف معاملات ہیں۔

چئیرمین نیب نے لاہور میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ نیب اپنے دائرہ کار سے نکل کر کوئی اقدام نہیں کرتا، سزا اور جزا ملکی قانون کےتحت عدالتوں کا کام ہے، ٹیکس چوری کا کیس ایف بی آر کے سپرد کریں گے۔

 انہوں نے پانامہ کیسز کے بارے میں کہا کہ پاناما کے باقی کیسز بھی چل رہے ہیں ، پاناما کیس میں جس کی معلومات جلدی آگئیں اس پر جلد فیصلہ کیا گیا۔

چیئر مین نیب نے کہا کہ پہلے بندہ رب کے سامنے پھر ضمیر کے سامنے جواب دہ ہے، نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں۔

 انہوں مافیا کے بارے میں کہا کہ ملک میں ایک نہیں کافی مافیا ہیں، مافیا کی ایسی ایسی داستانیں موجود ہیں جن کو بیان کرنا مشکل ہے۔ ہوسکتاہے آٹے کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہو، دوسرے ملکوں سے اطلاع مانگنے جاتے ہیں ، کس برابری سےمعلومات مانگیں گے جبکہ ہاتھ میں کشکول ہے۔

چیئر مین نیب نے کہا غریب ماں کا بیٹا اس لیے دم توڑدیتاہے کہ ویکسین نہیں ،ہم ذاتی مفادات سے کب نکلیں گے ، پہلے ایک شخصیت کو موٹر سائیکل پر دیکھا پھر دبئی میں ان کے ٹاورز بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ غلطی کا اعتراف کرنا ظرف کی بات ہے، جو ریفرنسز فائل ہوئے وہ 2017سے پہلے کے ہیں، جتنی جلدی ایکشن نیب نے کیا اتنا تو یورپ میں بھی نہیں لیاجاتا۔

نیب چیئر مین نے کہا  کہ نیب اتنا ہی محب وطن ہے جتنے آپ لوگ ہیں، نیب مکمل تحقیقات کے بعد انکوائری یا ریفرنس دائر کرتاہے، مغلیہ شہنشاہ کا دور گزر چکا ہے،  نیب عوام کی خدمت کیلیے ہےخوف پیدا کرنے کیلیےنہیں، یہ زیادتی ہے کہ پلی بارگین میں سو کی جگہ 10روپے واپس کیے جائیں، انہوں نے کہا کہ پلی بارگین جب تک میں منظور نہ کروں نہیں ہوسکتی۔

چیئر مین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ یتیموں ،بیواؤں اور پنشنرز پر ترس نہ کرنیوالی ہاؤسنگ سوسائٹی کیلیےکوئی رعایت نہیں، پانچ لاکھ روپے سوسائٹی کو دینےوالی بیوہ کو دھکے ملتے ہیں تو کیا یہ میگا کیس نہیں، ضرورت مندوں کے 5لاکھ روپے کا کیس میرے لیے میگا کیس ہے۔