دنیا کو زیادہ طاقت ور سمندری طوفانوں کا سامنا

88

اقوامِ متحدہ کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جو سمندری طوفان 100 برس میں ایک بار آتے تھے، 2050 تک وہ ہر سال آیا کریں گے۔ آب و ہوا کی تبدیلی کے زیرِ اثر آنے والے وقت میں دنیا کو زیادہ طاقت ور سمندری طوفانوں کا سامنا کرنے پڑے گا ۔

امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ‘کلائمٹ ایکشن سمِٹ 2019’ کے اختتام پر بدھ کو جاری ہونے والی ‘انٹر گورنمنٹ پینل رپورٹ’ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق ‘انٹر گورنمنٹ پینل’ کی ایک سال میں جاری کردہ یہ تیسری رپورٹ ہے۔حالیہ رپورٹ میں درجہ حرارت میں اضافے کے سمندروں کی سطح اور منجمد خطوں پر اثرات کو پریشان کن قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر درجہ حرارت میں کمی نہیں آتی تو اس صدی کے آخر تک سمندروں کی سطح ایک میٹر تک بلند ہو جائے گی۔ سمندر کی سطح بڑھنے سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لگ بھگ 70 کروڑ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے 2007 سے 2016 کے درمیان انٹارٹیکا سے پگھلنے والی برف کی مقدار پچھلے 10 برس کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔