مقبوضہ کشمیر، بین الاقوامی سازشیں اور مسلم اُمہ

81

تبسم فیاض
’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کے ہر گلی کوچے میں حتیٰ کہ چلتی پھرتی گاڑیوں پر آویزاں بینرز اور لکھا ہوا یہ جملہ ہر طرف نظر آرہا ہے اور میں بھی دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں لیکن جب چاروں طرف نگاہ ڈالتی ہوں تو سوائے منافقت کے کچھ نظر نہیں آتا۔ کشمیر کو شہ رگ کہنے والے ہم سب لوگ جب اپنا موازنہ کرنے بیٹھیں تو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ ایک طرف تو ہم سب کشمیر سے محبت کی صدا لگا رہے ہیں اور دوسری طرف بھارت کی جانب سے ظلم و ستم کو برا جانتے ہوئے بھی اس کی مصنوعات اس کے چینلز کا بائیکاٹ نہیں کر پا رہے۔ پاکستان سے بھاری بزنس کرنے والی بھارتی فلموں کا کروڑوں روپیہ کشمیر میں موجود بھارتی فوج کے اخراجات پر لگایا جاتا ہے جس کا عتاب ہمارے کشمیری بہن بھائی برداشت کر رہے ہیں کیا یہی ہماری محبت ہے؟ 72سال سے جاری جد وجہد میں ہمارا کیا کردار ہے؟ کشمیر کی آزادی کے لیے مذاکرات کے سوا ہم کس حد تک آگے بڑھے؟ ہمیں تو ابھی تک دوست اور دشمن کی پہچان نہیں ہو سکی اس کا منہ بولتا ثبوت حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں پیش کیا جانے والا پاکستان کی جانب سے کشمیر پر مقدمہ جن کی منظوری کے لیے 48ممالک کی ضرورت تھی لیکن افسوس ہمارے مسلم ممالک ہی ہمارے ساتھ نہیں تھے سعودی عرب جس کے دفاع کی کل تک ہم بات کر رہے تھے اس نے بھی انڈیا کا ساتھ دیا جن مسلم ممالک سے ہم اس کے ایمان کی بنیاد پر حق بات کی اُمید رکھتے تھے انہوں نے پاکستان کو صاف ہری جھنڈی دکھا دی۔ دنیا میں آج ہر طرف مسلم اُمہ پریشان ہے لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیا وجوہات ہیں جس کی وجہ سے تمام مسلم ممالک پر کفار مشرکین اور یہود حاوی ہیں۔ اس پریشانی کے ہم سب خود ذمے دار ہیں۔ ہم نے اللہ کے بتائے ہوئے راستہ کو چھوڑ کر دنیاوی ناخداؤں کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔ خود مسلمان حکمران ایسے ظالم و جابر غیر مسلم حکمرانوں کو امن کے سفیر کے ایوارڈ سے نواز رہے ہیں جو خود ان قوموں پر عذاب بن کر نازل ہوئے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے بُت خانوں کا افتتاح کر کے شرک کی تمام حدوں کو پار کر چکے ہیں۔ ایسے نام نہاد مسلم حکمرانوں سے ایمانی جذبہ کی امید رکھنا کسی بے وقوفی سے کم نہیں۔ فلسطین، شام، عراق، بوسنیا، چیچنیا، افغانستان، برما اور کشمیر کے ظلم و ستم دیکھنے کے باوجود بھی مسلم حکمرانوں میں اتحاد کی کوئی رمق دیکھنے میں نہیں آرہی۔ آخر کب تک مسلمان ان مظالم کو برداشت کرتے رہیں گے؟ اس کا کیا حل ہے؟ کب تک ہم جہاد سے نظریں چُراتے رہیں گے؟ پچپن دن سے زائد کرفیو نے کشمیر کے کتنے معصوم لوگوں سے ان کی زندگیاںچھینی ہوں گی۔ بھوک سے بلکتے بچوں کو ماں باپ نے کس طرح سنبھالا ہو گا۔ سسک کر دنیا سے کوچ کرنے والوں کے گھر والوں نے کس طرح تدفین کی ہو گی؟ اتنا قتل و غارت انسانی حقوق کی عالمی امن کی علم بردار تنظیموں کو دکھائی نہیں دے رہا اگر قوم اور ملک کا نام ہٹا دو تو صرف انسانیت ہی بچتی ہے اور جب لوگوں میں حیوانیت اُبھر جائے تو انسانیت کو ختم ہی ہونا پڑتا ہے۔ ایسا ہی کچھ کشمیر کی صورتحال ہے ہم یہاں بیٹھ کر صرف قلم چلا سکتے ہیں تبصرے کر سکتے ہیں ریلیاں نکال سکتے ہیں احتجاج کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کیا؟ کشمیریوں کو اس سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے سوائے یک جہتی کا نعرہ سننے کے؟ ابھی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا، سب سے پہلے تو نڈر ہو کر بھارت کی تمام آمد و رفت تمام مصنوعات تمام چینلز اور تمام کھانے پینے کی اشیاء پر پابندی لگا دی جائے۔ پاکستان میں ہر بُرے وقت سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کا استعمال صحیح لوگوں کے ذریعے ہو جو صحیح معنوں میں اس ملک سے اور کشمیر سے محبت رکھتے ہوں۔
کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں تمام مسلم اُمہ کا مسئلہ ہے جس طرح بوسنیا، فلسطین، چیچنیا، برما، افغانستان، شام، عراق اور کشمیر کی باری آئی ہے اس طرح بچے کھچے مسلم ممالک کا نمبر بھی لگے گا اور اس کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جھڑپوں کی صورت میں ہمیں پہچان لینا چاہیے کہ سارے تنازعات مسلم ممالک ہی میں کیوں ہیں؟ اس کے پیچھے غیر مسلم قوتوں کے کیا مقاصد ہیں؟ کیا عزائم ہیں؟ ہمیں آپس میں کون لڑا رہا ہے؟ اتنے مسائل کے باوجود کچھ مسلم ممالک کے حکمران آج بھی ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ شاید ان کا مہرہ بن کر بچ جائیں گے۔ لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جب ان کی باری آئے گی تو کوئی بھی مسلم ملک انہیں بچانے کے قابل نہیں رہے گا۔ اگر مسلم اُمہ یک جہتی کا مظاہرہ کر لے اور اپنے قومی مفادات سے بالاتر ہو کر مذہبی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے زبانی کلامی احتجاج کے بجائے عملاً کچھ کرنے کا عزم رکھیں تو یقینا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو وہ تحفظ دیں گے کہ کوئی بھی ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے سے بھی ڈرے گا۔ اسلام امن کا مذہب ہے ہمارے دین میں جہاں بہت زیادہ
ٹھیراؤ، نرمی، ایثار، عفو و درگزر اور بھائی چارہ ہے وہیں پر باطل، ظلم، تشدد، قتل و غارت، چوری، دھوکا دہی اور وعدہ خلافی کرنے والوں کی بھی سختی سے وعید آئی ہے۔ ہم ان منافقوں کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں جو ہمیں استعمال کر کے ہمارے اپنے لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں۔ خدارا مسلمان ہوش کے ناخن لیں، غیر اسلامی قوتوں کی سازش کو پہچانیں یہ وہ یہود قوتیں ہیں جو اپنی ایٹمی تنصیبات اور اسلحہ کی فروخت اور منافع کی خاطر آپس میں تنازعات پیدا کر کے جنگ کرانے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ خطہ پر بدلتی سیاسی فضاء کب اور کیسے طوفان کا روپ دھارتی ہے اس کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے یہ سب جانتے ہیں۔ امریکی قیادت کا رُخ افغانستان کی ناکامی کے بعد پاکستان کی طرف مُڑتا نظر آتا ہے اور وہ بھارت کو مُہرہ بنا کر کشمیر کے مسئلہ کو جنگ کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ ایک طرف پاکستانی حکومت سے بات کرتا ہے دوسری طرف بھارت کو اسلحہ فروخت کر کے پاکستان کو جنگ کے لیے خبر دار کرتا ہے اس کی دوہری پالیسی صرف اپنے مفادات کے لیے اپنائی جاتی ہے۔ یہ دوست بن کر دوسرے ملکوں کو صرف استعمال کرنا جانتا ہے اور یہ بات دنیا کے لوگ جانتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کی دوہری پالیسی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور کشمیر کے معاملے پر بھی وہ نظریں چُرائے انڈیا کا ساتھ دے رہا ہے۔ ایسے تمام اسلامی ممالک ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ان حالات سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے جس سے بیرونی طاقتوں کی سازش سے تحفظ مل سکے۔ مسلم امہ کو اپنے ایمان کی طاقت کا اندازہ نہیں۔ دنیاوی فتنے کا شکار ہو گئے ہیں اور اسلام کے ذریعہ ہدایت کو بھولتے جا رہے ہیں جب ہی غیر ملکی طاقتیں ہم پر حاوی ہو رہی ہیں اب بھی وقت ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تاکہ تفرقے میں نہ پڑیں۔