اسٹیل مل، سی پیک سیاست اور تنور والے کی نوے روٹیاں

124

سید محمد اشتیاق
بیگم صاحبہ نے گزشتہ رات، لنچ میں مٹن کڑاہی پکانے کا عندیہ دے دیا تھا۔ کڑاہی تیار ہونے سے قبل حکم صادر کیا کہ ’’جائیے اب جلدی سے جا کر روٹی لے آئیے‘‘۔ روٹی لینے آفیسرز میس کے تنور پہنچے۔ عاشورہ کی وجہ سے کالونی میں چہل پہل نہ ہونے کے برابر تھی اور گاڑیاں بھی اکا دکا ہی نظر آئیں۔ ہمارے تنور پہنچنے سے قبل دو چار افراد پہلے سے موجود تھے۔ اور آپس میں سیاست کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ سیاست کا موضوع اکتا دینے والا لگا، تو وہاں سے ذرا پرے ہٹ کر سوئمنگ پول کی جانب دیکھا اور تنورچی سے پوچھا: ’’سوئمنگ پول کا پانی کب تبدیل ہوا؟‘‘ تنورچی بولا: صاحب جی، چند دن ہو گئے ہیں۔ جواب سن کر ایک صاحب بولے: ’’اسٹیل ٹائون کی رونقیں جب سے اسٹیل مل بند ہوئی ہے، دم توڑ گئی ہیں‘‘۔ یہ بات سن کر سب نے ان صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایک صاحب کہنے لگے: ’’امید اچھے کی ہی رکھنی چاہیے‘‘۔ اس پر بھی سب متفق ہوئے۔ اب بات چل نکلی کہ چار سال سے بند اسٹیل مل چلے تو کیسے چلے۔ پلانٹ، گاڑیوں سمیت ہر شے ناکارہ ہو گئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں قابل آفیسرز اور ہنر مند ریٹائر ہو چکے ہیں۔ جن کے 2013 سے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ جو لوگ بر سر ملازمت ہیں، ان کی تنخواہ دس سال سے نہیں بڑھی ہے اور تین ماہ سے ملی بھی نہیں ہے۔ ایسی نازک صورت حال میں کس میں اتنا دم خم ہے کہ از سر نو اپنی توانائیوں کو مجتمع کرے اور اسٹیل مل کو بحال کرنے میں جت جائے ۔
ایک صاحب کہنے لگے: ’’وہ بھی کیا دور تھا، جب اسٹیل مل اور اسٹیل ٹائون میں ہر جگہ روسی نظر آتے تھے۔ حالانکہ اس زمانے میں مجاہدین افغانستان میں روسی فوجوں سے برسر پیکار تھے۔ سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ پھر بھی روسیوں نے انتہائی جانفشانی اور ایمان داری سے اسٹیل مل کی تعمیر کو پایہء تکمیل تک پہنچانے میں اپنے پاکستانی ساتھیوں کی بھرپور مدد کی۔ روسیوں نے نہ صرف پلانٹ دیا، بلکہ فولاد بنانے کی ٹیکنالوجی بھی دی۔ اسٹیل مل کو روسیوں کی مدد ہی سے دوبارہ چلایا جا سکتا ہے‘‘۔ سب نے ان صاحب کی باتیں غور سے سنیں۔ ایک صاحب بولے: ’’اسٹیل مل کے مالی حالات تو 2008 کے عالمی مالی بحران کے بعد سے خراب ہونے شروع ہو گئے تھے۔ وہ دن ہے اور یہ دن ، اب تک صورت حال میں بہتری تو کیا، صورت حال بگڑتی ہی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم جب حزب اختلاف میں تھے، تو اپنے رفقاء کے ساتھ اسٹیل مل کے چکر پہ چکر لگاتے نہ تھکتے تھے۔ اور ملازمین سے خطاب میں اس وقت کی حکومت کی نا اہلی اور نالائقی کا رونا روتے تھے۔ اور بلند بانگ دعوے کرتے تھے کہ ہم بر سر اقتدار آ کر اسٹیل مل اور اس کے ملازمین کے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ لیکن اب تو لگتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے‘‘۔ زبر سر اقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم صاحب ملازمین کی دل جوئی کے لیے تو خیر کیا تشریف لاتے، اب تو ان کی زبان مبارک سے اسٹیل مل اور اس کے ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ایک جملہ بھی ادا نہیں ہوتا۔ وزراء ہیں کہ اسٹیل مل کے حوالے سے ہر دو چار ہفتے بعد کامیاب شخصیت بننے کے لیے بیان دینے کے بعد یوٹرن لے لیتے ہیں۔ وزیر نج کاری کہتے ہیں، ’نج کاری نہیں ہوگی‘ اس کے اگلے دن وزیر تجارت فرماتے ہیں، ’نج کاری ہوگی‘ یہ کیسی صاف و شفاف نئے پاکستان کی حکومت ہے۔ جو عوام سے کیا گیا، اپنا ایک بھی وعدہ پورا کرنے سے قاصر ہے‘‘۔
ماحول کافی سنجیدہ ہو چکا تھا۔ ایک صاحب دھیمی آواز میں بولے: ’’اب تو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعد سی پیک کا بوریا بستر بھی گول ہے۔ ورنہ چینی کمپنیوں نے بھی اسٹیل مل کو بحال کرنے اور پیداوار بڑھانے میں دل چسپی ظاہر کی تھی۔ لیکن موجودہ صورت حال میں چینی کمپنیاں بھی اپنی سابقہ پیش کشوں پر اسٹیل مل کو بحال کرنے کی ہامی نہیں بھریں گی‘‘۔ ان صاحب کی بات سن کر تنورچی نے اپنے اوزار ایک طرف رکھے۔ اور بولا: ’’بدھائی ہو کہ سی پیک کا معاہدہ ختم یا محدود ہو گیا ہے۔ میں بھی ایک زمانے سے یہاں ہوں۔ روسیوں کو بھی دیکھا ہے اور چینیوں کو بھی۔ مجھ کو ہمیشہ روسیوں نے عزت دی اور کبھی دھوکا نہیں دیا۔ لیکن یہ چینی، صاحب کیا بتائوں؟ ایک چینی جوڑا با قاعدگی سے میرے پاس روٹی لینے آتا تھا۔ آہستہ آہستہ ان کو بھی ادھار کی بیماری لگ گئی۔ جب رقم کا تقاضا کرو تو کہتے، ’ٹو مارو، ٹو مارو، ٹومارو‘ کرتے کرتے میری نوے روٹی کے پیسے کھا کر بھاگ گئے۔ جب کہ روسیوں نے اس طرح کی حرکت کبھی نہیں کی۔ دعا کرو کہ روسی آ جائیں، لیکن چینیوں کے بارے میں تو سوچنا بھی نہیں۔ چونکہ سی پیک تو ابھی مکمل طور پر شروع بھی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے پاکستانی قوم کے ساتھ فراڈ شروع کر دیا تھا‘‘۔
خیر ہم تو تمام باتیں سن کر روٹی لے کر چلتے بنے۔ یہی سوچتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے کہ جب قوم اور ملازمین میں ایکا نہیں ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس نہیں ہے، تو دوسرے کو کیا پڑی ہے کہ آپ کے مسائل حل کرنے میں آپ کی مدد کرے۔ اہل اقتدار اور مقتدر حلقوں سے وطن عزیز کے داخلی و خارجی مسائل تو حل ہوتے نہیں۔ کبھی امریکیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی روسیوں اور چینیوں کی طرف تو کبھی حسرت بھری نظروں سے امت مسلمہ کی طرف۔