نیکٹا وزارت داخلہ کے ماتحت‘ گوادر بندرگاہ ٹیکس سے مستثنیٰ

83
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہاہے
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہاہے

مسلمانوں کی عظمت اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کیلیے ترکی کے ڈرامے پاکستان میں نشر کیے جائیں گے‘ عمران خان

اسلام آباد(اے پی پی+صباح نیوز) وفاقی کابینہ نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا ) کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے اور گوادربندرگاہ کو ٹیکس سے استثنا دینے کی منظوری دے دی۔ای کامرس پالیسی اور حلال فوڈاتھارٹی کے قیام کے لیے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ اجلاس میں صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ آٹے کی قیمت میں مصنوعی اضافے کو کنٹرول کیا جائے۔کابینہ نے ڈینگی کا مرض پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اسلام کی اصل روح، تعلیمات اور اسلامی تہذیب کو اجاگر کرنے اور اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے (اسلام فوبیا) کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک ٹی وی چینل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ترکی کی جانب سے سلطنت عثمانیہ کے دور سے متعلق تیار کیے جانے والے ڈراموں کو بھی پاکستان میں نشر کیا جائے گا تاکہ سلطنت عثمانیہ اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ عمران خان نے کہا کہ اسلام کے خلاف بیرونی دنیا میں منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی عظیم شخصیات کی زندگیوں کو اجاگر کریں تاکہ نئی نسل میں اسلام کے عظیم المرتب شخصیات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو اور منفی پراپیگنڈے کا بھی بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔ کابینہ کوبتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل، ایس پیز، ڈی سیز اور دیگر سینئر افسران کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں میں ” میرا بچہ الرٹ” شروع کیا جا رہا ہے تاکہ گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے اور ان کو ان کے والدین سے ملانے میں مدد مل سکے جن افراد کے پاس اینڈرائیڈ فون نہیں ہیں ان کی انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزارتوں، محکموں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں تاخیر پر نوٹس لے لیا۔عمران خان نے وفاقی وزارتوں، محکموں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ لائسنس کے اجرا، این او سیز، ڈومیسائل اور دیگر معاملات جیسے بنیادی خدمات کے کاموں سے متعلق درخواستوں کو فوری طور پر حل کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ 4 ہفتوں میں نظر انداز کی گئی یا تاخیر کا شکار درخواستوں کو حل کیا جائے اور وفاقی وزارتیں، محکمے انہیں جبکہ صوبائی حکومتیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں رپورٹ جمع کروائیں۔ساتھ ہی وزیراعظم نے ان حکومتی اداروں کو یہ بھی ہدایت کہ وہ اس طرح کے کیسز کے حل کے لیے کم سے کم ٹائم لائنز تیار کریں اور اس طرح کی ٹائم لائنز کو 10 روز میں اپنی ویب سائٹس اور نوٹس بورڈز پر آویزاں کریں تاکہ لوگوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد قائم ہوسکے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس طرح کے کیس کچھ خاص وجہ کے باعث مقررہ ٹائم لائنز میں مکمل نہیں ہوتے تو اس تاخیر کو درخواست میں تحریری طور پر واضح کیا جائے۔ وزیراعظم کی جانب سے وفاقی وزرا اور وزراء اعلیٰ کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بہتر گورننس اور عوام کے مفاد میں مذکورہ بالا ہدایات پر عملدرآمد ہونے کی نگرانی کریں۔