آرٹیکل 370: بھارتی سپریم کورٹ کا حکومت کو جواب داخل کرانے کا حکم

104

نئی دلی:بھارت کی اعلیٰ عدلیہ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت پانچ رکنی بینچ نے کی ہے۔ جس میں اعلیٰ عدلیہ نے مرکزی حکومت کو چار ہفتوں میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی”نیم خود مختار” حیثیت ختم کردی

سماعت کے دوران مرکزی حکومت کےوکیل نےعدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کُل دس پٹیشنز ہیں لہٰذا ہر ایک کا علیحدہ جواب دائر کیا جائے گا۔

جبکہ سپریم کورٹ نے اپنے ریماکس میں کہا ہے کہ تمام پٹیشنز کے بجائے عدالت چند مخصوص پٹیشنز پر سماعت کرسکتی ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

آرڑیکل370 کیا ہے؟

بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی “خصوصی حیثیت” کو ختم کر دیا تھا جس کے نتیجے میں اب مقبوضہ کشمیر ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایوان بالا راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35اے ختم کرنے کا بل رسمی طور پر پیش کیا تھا جس پر صدر مملکت پہلے ہی دستخط کرچکے تھے۔ تاہم اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔