برطانیہ کا رعونت پسند وزیر اعظم جمہوریت کے لیے خطرہ

204

برطانیہ کے موجودہ وزیر اعظم ۵۵ سالہ بورس جانسن، صحیح معنوں میں عوام کے منتخب وزیر اعظم نہیں ہیں بلکہ حادثاتی وزیر اعظم ہیں۔ اس سال جون میں سابق وزیر اعظم ٹریسا مے نے یورپ سے علیحدگی میں ناکامی کے بعد جب وزارت عظمیٰ سے استعفا دیا تھا تو حکمران ٹوری پارٹی نے جس پر انتہا پسند دائیں بازو، اسلام دشمن اور نسل پرست گروہ حاوی ہے، بورس جانسن کو پارٹی کا لیڈر منتخب کیا یوں وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ بورس جانسن گو اپنے ترک پردادا کے توسط سے مسلم پس منظر کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اپنی اسلام دشمنی نہیں چھپاتے ہیں۔ ۲۰۰۵ میں بورس جانسن نے جریدہ اسپیکٹیٹر میں لکھا تھا کہ اسلام اصل مسئلہ ہے اور اسلامو فوبیا (اسلام سے نفرت) قدرتی رد عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پڑھنے والوں سے غیر مسلموں کا خوف زدہ ہونا قدرتی ہے۔ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ اسلام تمام مذاہب میں نہایت خطرناک مسلک ہے اور غیر مسلموں کے لیے سنگ دل مذہب ہے۔
۲۰۰۷ میں لندن میں بم دھماکوں کے بعد بورس جانسن نے برطانوی مسلمانوں کی وفاداری مشکوک قرار دی تھی اور زور دیا تھا کہ برطانیہ کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اسلام اصل مسئلہ ہے۔ یہی نہیں پچھلے سال بورس جانسن نے یہ لکھ کر تہلکہ مچا دیا تھا کہ برقع پوش مسلم خواتین لیٹر باکس نظر آتی ہیں اور بینک ڈاکو لگتی ہیں۔ برقع پوش مسلم خواتین کے بارے میں بورس جانسن کے اس زیریلے بیانیے کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں پر حملوں میں ۳۷۵ فی صد اضافہ ہوا اور مسلمانوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اب تک سیاسی مبصرین اس راز کی تہ تک نہیں پہنچ پائے ہیں کہ بورس جانسن کی اسلام دشمنی کی اصل وجہ کیا ہے لیکن یورپ دشمنی کے پس پشت ان کے سیاسی عزائم کار فرما ہیں جن کی بدولت وہ اقتدار کے حصول میں کامیاب رہے ہیں۔ بورس جانسن نے بڑی گہری منصوبہ بندی کے تحت ۲۰۱۶ کے ریفرینڈم میں دائیں بازو کے اس گروہ کی قیادت سنبھالی جس کے یورپ سے علیحدگی سے گہرے مالی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اور جس گروہ نے یورپ سے آزادی کا جذباتی نعرہ لگایا ، یہ گروہ دراصل یورپ کو کمزور کرنے اور اسے مفلوج کرنے کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بورس جانسن، امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں اور ٹرمپ بھی ان پر جان نچھاور کرتے ہیں۔
ریفرینڈم میں ایک کروڑ پچھتر لاکھ ووٹروں نے یورپ سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد بورس جانسن نے یورپ سے علیحدگی کو اپنا سیاسی عقیدہ بنا لیا اور بورس جانسن اور ان کے گروہ کی یہ حکمت عملی رہی کہ وزیر اعظم ٹریسامے یورپی یونین سے کوئی سمجھوتا نہ کر سکیں اور جو بھی سمجھوتا وہ کریں پارلیمنٹ میں وہ منظور نہ ہو سکے اور یہی ہوا ٹریسا مے نے یورپی یونین سے جو سمجھوتا کیا تھا اسے پارلیمنٹ نے تین بار مسترد کردیا۔ بورس جانسن کی حکمت عملی اس وقت کامیاب رہی جب ٹریسا مے نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر تے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفا دے دیا اور بورس جانسن پارٹی کے لیڈر منتخب ہوگئے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد بورس جانسن کی یہ کوشش رہی ہے کہ جیسے تیسے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی جائے، چاہے اس بارے میں کوئی سمجھوتا نہ ہو۔ انہوں نے یورپ سے علیحدگی کی حتمی تاریخ ۳۱ اکتوبر کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن حزب مخالف کے نزدیک بغیر سمجھوتے کے یورپ سے علیحدگی برطانیہ کی معیشت کے لیے تباہ کن بلکہ مہلک ثابت ہوگی لہٰذا حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے مل کر ایک قانون منظور کیا جس کے تحت بغیر سمجھوتے کے یورپ سے علیحدگی ممنوع قرار دے دی گئی۔ بورس جانسن اس قانون پر سخت برانگیختہ ہیں اور کوشش ہے کہ یہ قانون کالعدم قرار دے دیا جائے۔ اس قانون کو کالعدم قرار دینے میں ناکامی کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ کی زبان بندی کے لیے ملکہ کو مشورہ دیا کہ پارلیمنٹ کو پانچ ہفتوں کے لیے معطل کر دیا جائے۔ قدیم روایات کے مطابق ملکہ وزیر اعظم کا مشورہ قبول کرنے کی پابند ہیں۔ چنانچہ پارلیمنٹ معطل کر دی گئی۔ اس فیصلے کو اسکاٹ لینڈ اور انگلستان کی اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔ اسکاٹ لینڈ اور انگلستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بورس جانسن کے فیصلے کو قانونی قرار دیا۔ ان فیصلوں کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا۔ گیارہ ججوں پر مشتمل عدالت عظمیٰ کی فل بینچ نے مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ کی معطلی کے بارے میں بورس جانسن کا اقدام غیر قانونی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی صدر لیڈی ھیل نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی معطلی غیر قانونی تھی کیونکہ اس کا مقصد بغیر کسی مناسب جواز کے پارلیمنٹ کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کو غیر قانونی طور پر معطل کیا گیا ہے لہٰذا پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اسپیکر نے دوسرے ہی دن پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا جس میں حزب مخالف نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو وزیر اعظم بورس جانسن کی تباہ کن شکست قرار دیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ ایوان میں گونج اٹھا کیونکہ انہوں نے غیر قانوی قدم اٹھایا تھا اور ملکہ کو غلط مشورہ دیا تھا۔ لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بورس جانسن کے وزیر اعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ لبرل ڈیموکریٹس کی سربرہ جو سونسن نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد اب بورس جانسن وزیر اعظم کے عہدے کے اہل نہیں رہے ہیں۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے بھی بورس جانسن کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب سے بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے ان کی پارلیمنٹ سے برابر معرکہ آرائی رہی ہے جس کے دوران میں پارلیمنٹ میں انہیں اب تک آٹھ بار لگا تار شکست کھانی پڑی ہے۔ پچھلے دنوں اپنی رعونت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی کی پروا نہیں کریں گے اور زندگی یا موت ۳۱ اکتوبر کو برطانیہ یورپی یونین سے قطعی طور پر علیحدہ ہو جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر طویل بحث کے دوران بورس جانسن نے ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے اقدام پر تاسف کا اظہار نہیں کیا اور نہ اراکین کے بار بار مطالبے پر پارلیمنٹ کی معطلی پر معذرت چاہی۔ گو انہوں نے کہا کہ وہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہیں۔ بورس جانسن نے بار بار حزب مخالف لیبر پارٹی کے سربراہ کو للکارہ کہ وہ ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کریں تاکہ فی الفور عام انتخابات منعقد ہوں۔ لیکن حزب مخالف کا واضح موقف ہے کہ ۳۱ اکتوبر سے قبل کسی سمجھوتے کے بغیر یورپ سے علیحدگی نہیں ہونی چاہیے اس لیے اس سے پہلے کسی صورت میں عام انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ ابھی چونکہ موجودہ پارلیمنٹ کی پانچ سالہ مقررہ معیاد پوری نہیں ہوئی ہے لہٰذا نئے انتخابات کے لیے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے جو بورس جانسن کو حاصل نہیں۔
اپنی حکمت عملی میں ناکامی کے بعد بورس جانسن بوکھلا گئے اور انہوں نے اور ان کی پارٹی کے ارکین نے اپنے مخالفین کے خلاف نہایت زہریلی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ سے قبل بورس جانسن اپنے مخالفین کے خلاف اس قدر زہریلی زبان استعمال کر رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے انتہا پسند دائیں بازو اور نسل پرست تنظیموں کو بڑی تقویت پہنچی ہے۔ بریگزٹ کے مخالفین کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے اس کے نتیجے میں سیاست دانوں اور خاص طور پر خواتین اراکین پارلیمنٹ کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی سربراہ کریسیڈا ڈک نے اعتراف کیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ خاص طور پر خواتین اراکین کے خلاف قتل کی دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
غرض اس وقت برطانیہ کی پارلیمانی جمہوریت سنگین بحران سے دوچار ہے یہ جمہوریت تیزی سے استبدادی صورت اختیار کر تی جارہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بورس جانسن کی ٹوری پارٹی کو ایوان میں اکثریت حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ ٹوری پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے لیے پارلیمنٹ کی چند روز کی معطلی کی تحریک بھی ایوان نے مسترد کر دی ہے۔ بریگزٹ نے ایک طرف ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے دوسری جانب پارلیمنٹ کی بالا دستی کو شدید خطرات پیدا ہوگئے ہیں خاص طور پر اس امر کے پیش نظر کہ بورس جانسن عوام کو پارلیمنٹ کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ۳۱ اکتوبر کو برطانیہ یورپ سے کس انداز سے علیحدگی اختیار کر تا ہے اگر کسی سمجھوتے کے بغیر یہ قدم اٹھاتا ہے تو بورس جانسن اس قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے جو بغیر کسی سمجھوتے کے علیحدگی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس خلاف ورزی کی انہیں کیا سزا ملے گی؟ انہیں سزا ملے یا نہ ملے لیکن عوام کو معیشت کی تباہی کی صورت میں نہایت سخت سزا ملے گی۔