چمن اور ہنگو میں فائرنگ اور دھماکا، جے یو آئی کے رہنما سمیت 9 افراد جاں بحق

49
کوئٹہ: چمن روڈ پر ہونیوالے دھماکے کے بعد جائے وقوع پر تباہ شدہ کار کے قریب لوگ جمع ہیں
کوئٹہ: چمن روڈ پر ہونیوالے دھماکے کے بعد جائے وقوع پر تباہ شدہ کار کے قریب لوگ جمع ہیں

 

کوئٹہ،ہنگو(خبر ایجنسیاں) چمن اور ہنگو میں دھماکا،فائرنگ،جے یو آئی رہنما سمیت 9 افراد جاں بحق۔تفصیلات کے مطابق چمن میں تاج روڈ پر ہونے والے بم ھماکے کے نتیجے میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا محمد حنیف سمیت 3 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔کوئٹہ کے قریب چمن میں تاج روڈ پر جے یو آئی (ف) کے رہنما کی گاڑی کو سڑک کنارے بارود سے بھری موٹرسائیکل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، دھماکا اس قدر خوفناک تھا کہ
آس پاس کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی، دھماکے کے بعد افرا تفری میچ گئی تاہم حواس بحال ہونے پر قریب کھڑے لوگوں نے زخمیوں کو اپنی گاڑیوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا تاہم مولانا محمد حنیف جانبر نہ ہوسکے اور دوران علاج دم توڑ گئے، جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہیں۔دھماکے میں زخمی ہونے والے 8 افراد اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔علاوہ ازیںخیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں مسافر کوچ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ہنگو کے علاقے زرگیری میں نامعلوم حملہ آوروں نے مسافر کوچ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن کی گرفتاری کیلیے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی اہلکار اور امدادی رضاکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 3 افراد دم توڑ گئے۔مرنے والوں میں ایک سال کا بچہ اور خاتون بھی شامل ہیں۔ دیگر 3 زخمیوں کی حالت بھی تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔دریںا ثناء جمعیت علماء اسلام(ف) نے بلوچستان میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا۔سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد حملے حوصلے پست نہیں کرسکتے، اکتوبر میں آزادی مارچ ہوگا، حکومت کو مولانا محمد حنیف کے خون کا جواب دینا ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دہشتگردی کے حملے میں مولانا حنیف کی شہادت کے ردعمل میں آج بلوچستان میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبہ بھر میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مولانا حنیف جنرل سیکرٹری، رکن مجلس عاملہ اور قریبی دوست تھے۔مولانا حنیف کے پسماندگان کے غم میں برابر کے شریک ہیں،کہا گیا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیت لی ہے اور امن قائم ہوگیا ہے۔ہمیں بتائیں کون سی دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی کہاں امن قائم ہوا؟لیکن یہاں تو امن کے تمام دعوت دم توڑ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نااہل ہوچکی ہے ، علماء کرام اور شہری غیرمحفوظ ہوگئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشتگرد حملے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔اکتوبر میں آزادی مارچ ہوگا۔کارکن پرامن طریقے سے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں۔مولانا محمد حنیف کا خون رنگ لائے گا، حکومت کو خون کا جواب دینا ہوگا۔مولانا حنیف کی نمازجنازہ چمن میں انکے اپنے مدرسے میں آج ادا کی جائے گی ۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ،پی پی چیئرمین بلاول زرداری،وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان و دیگر نے چمن دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار افسوس کیا ہے۔