اسلام آباد اور پشاور کے اسپتالوں میں ہڑتال۔ کل تمام سرکاری اسپتال بند کرنیکا کا انتباہ

57
پشاورـ :ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملے کی ہڑتال کے باعث لیڈی ریڈنگ اسپتال کی اوپی ڈی بند ہے
پشاورـ :ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملے کی ہڑتال کے باعث لیڈی ریڈنگ اسپتال کی اوپی ڈی بند ہے

 

اسلام آباد،پشاور(صباح نیوز) ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف آل پاکستان گرینڈ ہیلتھ الائنس کے اعلان پر پشاور کے لیڈی ریڈنگ اور اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ،کل سے ملک بھر کے اسپتال بند کرنیکا انتباہ،کے پی کے میں ڈاکٹر گرفتار ، مقدمات درج کرلیے گئے۔تفصیلات کے مطابق ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف آل پاکستان گرینڈ ہیلتھ الائنس کے اعلان کے بعد پمز اسپتال کے ینگ ڈاکٹرزاور ملازمین نے کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور شدید نعرے
بازی کی،اس موقع پر پمز ڈینگی وارڈ،،پولیو کائونٹراورایمرجنسی کے علاوہ دیگر تمام شعبے بند کر دیے گئے۔احتجاج کے باعث اسپتال آنے والے مریض رل گئے اور مریضوں نے بھی اسپتال میں طبی سہولیات نہ ملنے کے خلاف احتجاج کیا۔دوسری جانب خبیر پختونخواحکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کردہ بل کے خلاف لیڈی ریڈنگ اسپتال(ایل آر ایچ) میں دوسرے روز بھی احتجاج جاری رہاجس کے باعث سرکاری اسپتالوں میں اوپی ڈیز کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ کلینکس کی بھی تالا بندی کردی گئی،احتجاج کرنے والے 26ڈاکٹروں کے خلاف دفعہ 144کی خلاف ورزی، کار سرکار میں مداخلت، املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری اہلکاروں پر حملہ و مزاحمت، ضرر رسانی اور بلوہ کی دفعات 148، 149، 186، 188، 337، 353، 427اور 506 کے تحت مقدمہ درج کر لیا اس کے علاوہ سڑک بند کرنے پر بھی الگ ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ڈاکٹروں نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال اور مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کو مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ او پی ڈی، سرکاری اسپتالوں اور پرائیویٹ کلینک میں سے جاری بائیکاٹ کو مزید وسیع کررہے ہیں۔ڈاکٹروں نے پولیس سے تصادم کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔علاوہ ازیں آل ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر اسفندیار ولی نے کہا ہے کہ کل پیر سے ملک بھر کے سرکاری اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز)میں ڈاکٹروں کے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اپنے 75سالہ بوڑھے کزن کو ہم پر بٹھا دیا ،معاون خصوصی نے ہم سے جھوٹ بول کر ایکٹ منظور کروا لیا ، ہم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ پمز کو پرائیویٹ ہونے دینا ہے یا نہیں ،تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو لاکر پمز میں ہی پارلیمنٹ لگائیں گے، ہمارے مطالبات مانے جانے تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں پیر سے پمز کی او پی ڈی سمیت تمام ڈپارٹمنٹ بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔