حکومت خاموش رہی تو چکوٹھی کی طرف مارچ پرمجبور ہوں گے،سراج الحق

38
مظفرآباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کشمیر بچائو مارچ سے خطاب کررہے ہیں
مظفرآباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کشمیر بچائو مارچ سے خطاب کررہے ہیں

مظفرآباد ( نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ دنیا سے کوئی امید نہ رکھیں ،اب عمران خان خود کہتے ہیں کہ عالمی برادری نے مایوس کیا ہے، اگراب بھی حکومت خاموش رہی توہم چکوٹھی کی طرف مارچ کرنے پر مجبور ہوںگے۔ 55دن سے کشمیر میں بدترین کرفیو جاری ہے ،ہماری حکومت نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیریوں پر جاری ظلم وجبر کے خاتمے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس اختتامی مراحل میں ہے مگر ابھی تک کوئی قرار داد پاس ہوئی نہ کرفیوکے خاتمے کا کو ئی مطالبہ سامنے آیا ۔ حکومت فوری طور پر آزاد کشمیر کی اسمبلی کو پورے کشمیر کی اسمبلی قراردے۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس لندن اور دوسرانیویارک میں رکھا جائے ۔دنیا کو بتایا جائے کہ کشمیر کی نمائندہ حکومت یہی ہے جو راجا فاروق حیدر کی قیادت میں قائم ہے ۔کشمیر ی گزشتہ 2 ماہ سے کٹ رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت اور فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔پاکستان کے غیور عوام کشمیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے اور لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں۔ہم کشمیر کو دوسراغرناطہ نہیں بننے دیں گے ۔ ہمارا مطالبہ 370اور 35اے کی بحالی کا نہیں کشمیر کی آزادی کا ہے ۔مودی دنیا کو دھوکا دینے کے لیے بھارتی عدالت عظمیٰ سے ان دفعات کی بحالی کا فیصلہ لے سکتا ہے ۔ہم کشمیر کی آزادی کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں کریں گے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفر آباد یونیورسٹی گرائونڈ میں کشمیر بچائو مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کشمیر بچائو مارچ کے شرکا سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،عبد الرشید ترابی ،آزاد کشمیر جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر خالد محمود ،صدر جے آئی یوتھ زبیر گوندل ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان محمد اصغر، جماعت اسلامی پنجاب شمالی کے امیرڈاکٹر طارق سلیم اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ ۔قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حید ر سے وزیر اعظم ہائوس میں آزاد کشمیر میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس بھی کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہماری حکومتوں نے ہمیشہ کشمیر کی آزادی کے بجائے بھارتی حکومتوں سے دوستی کی کوشش کی ۔حکمران واجپائی ،منموہن سنگھ اور مودی کو ذاتی مہمان بناتے اور ان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھاتے رہے۔ ٹرمپ کی ثالثی کا مطلب کشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنا ہے ۔ٹرمپ کی ثالثی یہی ہوگی کہ کشمیر کے جس حصے پر بھارت قابض ہے وہ بھارت کا اور دوسرا پاکستان کا ۔یہ کشمیریوں کی 72سالہ جدوجہد اور قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔پاکستان اور کشمیر کے عوام کسی صورت بھی ٹرمپ کی ثالثی کو قبول نہیں کریں گے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ صدی میں کئی ملکوں کو آزادی ملی مگر کشمیر کو آزادی نہیں ملی ۔آزادی اقوام متحدہ نہیں اللہ دیتا ہے لیکن ہمارے حکمران بار بار اس اقوام متحدہ کے پاس جاتے ہیں جو اپنی درجنوں قرار دادوں پر عمل نہیں کرا سکی۔ 48ء میں ہمارے بزرگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آدھے کشمیر کو آزاد کرایا تھا آج ہم اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے باقی آدھے کشمیر کو آزاد کرائیں گے ۔ہم نے 72سال تک عالمی برادری ، عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور حکمرانوں کی طرف دیکھا مگر کسی نے کشمیر میں قتل عام اور ہماری مائوں بہنوں بیٹیوں کی عزتوں کی پامالی کور وکنے کی کوشش نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ قریباً 2 ماہ سے کشمیر میں قیا مت برپا ہے لیکن سابق حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی کشمیریوں کی کوئی عملی مدد کرنے کے بجائے امریکا اور اقوام متحدہ سے امید لگائے بیٹھی ہے ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کو یقین دلاتا ہوں کہ پوری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ ہے ۔کشمیر ی اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں ۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالدمحمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر ی بھارت کے سامنے پہلے جھکے نہ اب جھکیں گے ۔کشمیریوں نے تو اپنا آج پاکستان کے کل پر قربان کردیا ہے ۔ہماری تو مائوں بہنوں بیٹیوں نے بھارتی فوج کے ساتھ مقابلے کے لیے ہاتھوں میں پتھر اٹھا لیے ہیں ۔اگر پاکستان کے حکمرانوں نے اعلان جہاد نہ کیاتو یہ مائیں بہنیں بیٹیاں کب تک یہ مقابلہ کرسکیں گی۔ہمیں یواین او اور او آئی سی کے مردہ گھوڑے سے کوئی امید نہیں ۔ہم پاکستانی حکمرانوںسے کہتے ہیں کہ اب عمل کا وقت ہے آگے بڑھیں ۔ہم آپ کا ہراول دستہ بنیں گے ۔اب ہمیں اخلاقی ،سیاسی یا سفارتی مدد کی ضرورت نہیں ۔ہم کشمیر کو بھارت کے خونی پنجے سے آزاد کراکر پاکستان کا حصہ بنائیں گے ۔عبد الرشید ترابی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدؒ نے جس طرح مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور کشمیر یوں کی پشتیبانی کی اسی تسلسل کے ساتھ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان اور آزادکشمیر کے شہر شہر اور قریہ قریہ جارہے ہیں اور کشمیر یوں کی سرپرستی کا حق ادا کررہے ہیں۔سینیٹر سراج الحق ہمیں جو لائحہ عمل دیں گے اس کے مطابق ہی کشمیری اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے ۔
سراج الحق