بھارت یا انصاف؟ دنیا ایک کا انتخاب کرے، عمران خان

419
نیویارک: وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کررہے ہیں
نیویارک: وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کررہے ہیں

 

نیویارک( خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا بھارت یا انصاف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے،انسانیت کے بجائے تجارت کو فوقیت دینا افسوس ناک ہے‘عالمی برادری 1.2ارب کی آبادی والی مارکیٹ کو خوش کرنے کے بجائے کشمیر کو کرفیو اور جبرسے آزادکرائے۔ ان کے بقول جوکچھ کشمیر میں ہورہا ہے اگر میرے ساتھ ہوتا تومیں بھی بندوق اٹھالیتا، اسلام نہیں بھارت کشمیریوں کو انتہاپسندی کی جانب دھکیل رہا ہے، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو اقوام متحدہ کی مکمل ناکامی ہوگی ، مودی نے 80لاکھ کشمیریوں کو جانوروں کی طرح بند کررکھا ہے، عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو 2ایٹمی طاقتیں آمنے
سامنے ہوں گی، اگر جنگ ہوئی تو ایٹمی ہوگی ، یہ دھمکی نہیں وارننگ ہے، پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ عمران خان نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایشیا سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں انگریزی زبان میں 50منٹ فی البدیہ ( غیر تحریر شدہ) تقریر کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے4اہم موضوعات یعنی ماحولیاتی تبدیلی، منی لانڈرنگ، اسلام فوبیاااور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔عمران خان نے تقریر میں آخر میں کشمیر کا ذکر کیا اور سب سے زیادہ وقت اسی پر بات کی جس میں ان کا انداز خاصا جارحانہ رہا۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں (اقوام متحدہ) آنے کا اہم مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتانا ہے کہ وہاں کیا ہو رہاہے،مسئلہ کشمیر پر بات سے پہلے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت جنگ کے خلاف ہے، نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، 70 ہزار پاکستانی ایسی جنگ میں مارے گئے جن کا اس سے تعلق ہی نہیں تھا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے تمام انتہا پسند گروپس ختم کر دیے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنا مشن بھیج کر معائنہ کرالیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سے مذاکرات کی بات کی، مودی کو بتایا کہ ہمارے مشترکہ چیلنجز ہیں لیکن بھارت نے مذاکرات کی پیشکش ٹھکرادی، بھارتی وزیراعظم کو کہا غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑیں، مودی نے کہا پاکستان سے دہشت گرد حملے ہوتے ہیں تو بھارتی وزیراعظم کو بتایا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پلواما حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عاید کرکے بم گرائے، ہم نے ان کے 2 طیارے مار گرائے، ہم نے فوری طور پر ان کا پائلٹ واپس کیا کیونکہ ہم امن چاہتے تھے، بھارت میں واویلا کیا گیا کہ پاکستان میں درجنوں دہشت گرد مارے، انہوں نے صرف 10 درخت تباہ کیے جس کا ہمیں دکھ ہے کیوں کہ ہم نے بڑے پیار سے وہ درخت لگائے تھے۔ عمران خان کی اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔انہوںنے کہا کہ مودی نے انتخابی مہم میں کہا کہ ابھی ٹریلر دکھایا ہے پاکستان کو فلم دکھائیں گے، ہم نے سوچا انتخابات کا ماحول ہے، بعد میں صحیح ہو جائیں گے لیکن ہمیں پتا چلا بھارت پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سازش کررہا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگاکر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا۔عمران خان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے، آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا، آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے اور یہ ہٹلر سے متاثر ہو کر بنی، آر ایس ایس بھارت سے مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی، اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلموں کا قتل عام کیا۔ان کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افرادکو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے، یہ نہیں سوچا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا، دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہوگی، دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا۔عمران خان کے بقول ماضی میں لاکھوں کشمیری آزادی کی تحریک میں جان دے چکے ہیں، مقبوضہ وادی میں 11ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حامی سیاسی قیادت کو بھی قید کررکھاہے، مقبوضہ کشمیر میں خون خرابے کے بعد ایک اورپلواما ہوسکتا ہے اور بھارت ہم پرالزام لگائے گا، بھارت میں کروڑوں مسلمان کیا یہ سب نہیں دیکھ رہے؟ بھارتی حکومت نے 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو مختلف جیلوں میں قید کررکھاہے۔عمران خان نے مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے اور پوری دنیا خاموش رہتی ہے، اگر لاکھوں یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا؟ روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، دنیا نے کیا رد عمل دیا؟ اگرخونریزی ہوئی تو مسلمانوں میں انتہا پسندی اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ہوگی۔انہوں نے دنیا کوایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو 2 ایٹمیملک آمنے سامنے ہوں گے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ پر ذمے داری عاید ہوتی ہے، اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتاہے، یہ وقت اقوام متحدہ کی آزمائش کا ہے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50 روز سے زاید جاری کرفیو اٹھائے، کیا اقوام متحدہ ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو خوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ فرض کریں کہ ایک ملک اپنے پڑوسی سے 7گنا چھوٹا ہے، اسے 2 آپشنز دیے جاتے ہیں، یا تو وہ سرنڈر کردے یا پھر اپنی آزادی کے لیے آخری سانس تک لڑے، ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں، اور میرا یقین ہے کہ لاالہ اللہ ہم لڑیں گے۔ عمران خان کے اس جملے پر ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا۔پھر وزیراعظم نے خبردار کیا کہ ’جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے اس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں، لمحہ فکریہ ہے۔آخر میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، اقوام متحدہ ہی تھا جس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت کی ضمانت دی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کیخلاف ایکشن لینے کا وقت ہے اور سب سے پہلا کام مقبوضہ کشمیر میں یہ ہونا چاہیے کہ بھارت وہاں 55 روز سے جاری غیر انسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کرے۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور بالخصوص ان 13 ہزار نوجوانوں کو رہا کرے جنہیں ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائے۔ وزیراعظم کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے بعد ان کا دورہ امریکا ختم ہوگیا اور وہ ہفتے کو وطن واپس لوٹیں گے۔