کشمیر میں مظالم پر خاموش رہنے والا شیطان ہے، ترک صدر۔ اسرائیل کی مخالفت بردشت نہیں کرینگے، ٹرمپ

81
نیو یارک:وزیراعظم عمران خان ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کررہے ہیں
نیو یارک:وزیراعظم عمران خان ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کررہے ہیں

 

نیویارک(خبر ایجنسیاں)ترک صدر رجب طیب اردوان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جبری پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر میں مظالم پر خاموش رہنے والا شیطان ہے ،کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ہے ،اگر اس معاملے پر سب خاموش بھی ہوگئے تب بھی ترکی ظلم کیخلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور مسلم کمیونٹی اور ترک شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کیاجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مخالفت کرنے والوں کو امریکا برداشت نہیں کرے گا، چین سے تجارتی معاہدہ ہانگ کانگ کے معاملے سے مشروط ہے،خلیجی ممالک اسرائیل کا ساتھ دیں،ایران پابندیوں میں اضافہ اوراسے ایٹمی ہتھیار نہیں حاصل کرنے دینگے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ یو این کی منظور شدہ قرار دادوں کے باوجود 72سال سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکا،
گزشتہ50روز سے80لاکھ کشمیری محصور ہیں وہ باہر نہیں آسکتے کیوں کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے ۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کا حل اعتماد اور برابری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات سے کرنا چاہیے۔ترک صدر نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے ثبوت نقشے کی صورت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک اسرائیل مسلسل فلسطینی زمین پر قبضہ کررہا ہے، اسرائیلی زمین بڑھتی جارہی ہے اور فلسطین کا رقبہ کم ہوتا جارہا ہے، کیا کوئی اسرائیل کے بارڈرز ہیں؟ اسرائیلی سرحدوں کی تعین کیوں نہیں کیا جارہا؟رجب طیب اردوان نے ایلان کرد کی تصویر اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھوک، خوراک کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز کے حل کی قابلیت کھوتی جارہی ہے۔علاوہ ازیںمسلم کمیونٹی اور ترک شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اروان کا کہنا تھا کشمیر کے مظالم پر خاموش رہنا والا بے زبان شیطان کی طرح ہے، ترکی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے۔کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ہے، اگر اس معاملے پر سب خاموش بھی ہوگئے تب بھی ترکی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا،دنیا بھر میں آج ترکی سب سے زیادہ مظلوموں کی مدد کرنے والا ملک کہلاتا ہے۔رجب طیب کا کہنا تھاکہ ہمارے اور ملک کے دروازے ہر مظلوم کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر کے درمیان سلامتی کونسل کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمران خان نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور مودی حکومت کے اقدامات سے وہاں جنم لینے والے انسانی المیے پر تفصیلی آگاہ کیا اور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی تجارتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ دنیا کی یہ دونوں عظیم معیشتیں اپنے تجارتی تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتی ہیں۔چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے مستقبل کا انحصار ہانگ کانگ معاملے سے نمٹنے کے طریقے پر ہے ۔صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میںایران کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی طرف سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کیے گئے، دنیا کے ممالک اس تناظر میں ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ کا ساتھ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو شراکت داروں کی ضرورت ہے دشمنوں کی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن کا راستہ اب بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون ہے بلکہ شام اور یمن کی جنگ بھڑکانے میں بھی ملوث ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، اس پر اقتصادی پابندیاں برقرار رہیں گی اور ان کی شدت میں مسلسل اضافہ کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں تاکہ علاقے میں ایران کے مقابلے میں متبادل قوت سامنے آ سکے۔امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے امریکہ کو بعض معاملات میں طاقت استعمال نہیں کرنی پڑے گی۔قبل ازیں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے کہا ہے کہ دنیا دو بڑی معیشتوں امریکا اور چین کے درمیان تقسیم ہورہی ہے۔2 بڑی معیشتیں زمین پر الگ الگ اور مسابقتی دنیا بنا رہی ہیں،ہمیں اس فریکچر سے بچ کر ایک یونیورسل نظام بنانا ہے۔ہمیں ایک یونیورسل معیشت بنانی ہے جو عالمی قوانین کے تابع ہو۔اپنے خطاب میں مزید کہا کہ خلیج کے مسئلے پر ذرا سی بھی غلطی بڑے تنازعے کا باعث بن سکتی ہے۔دنیا کے لوگ اب بھی اقوام متحدہ پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔عالمی رہنما مہاجرین کی عزت اورانسانی حقوق کا احترام کریں۔
طیب اردگان