پارلیمان کی معطلی غیر قانونی ہے (برطانوی عدالت عظمیٰ)

45
لندن: برطانوی عدالت عظمیٰ کے باہر وزیراعظم کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے‘ جج پارلیمان سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنا رہے ہیں
لندن: برطانوی عدالت عظمیٰ کے باہر وزیراعظم کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے‘ جج پارلیمان سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنا رہے ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمان کی معطلی کو غیرآئینی قرار دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز عدالت عظمیٰ کے 11 ججوں پر مشتمل بینچ نے اتفاق رائے سے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے پارلیمان معطل یا اس کا اجلاس ملتوی کرنے کو غیرقانونی اور باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام قانونی اعتبار سے غیر مؤثر ہے۔ وزیراعظم جانسن نے اس ماہ کے اوائل میں پارلیمان کو 5ہفتوں کے لیے معطل یا اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی تھی۔ تاہم اب عدالت نے قرار دیا ہے کہ وزیراعظم کا ارکان پارلیمان کو 31 اکتوبر کو بریگزٹ سے قبل کام سے روکنا غلط اقدام تھا۔ عدالت عظمیٰ کی سربراہلیڈی ہیل نے کہا کہ جمہوریت کی مبادیات (بنیادی اصول) پر اس کا اثر شدید تھا۔ اس فیصلے کے بعد بعض ارکانِ پارلیمان وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب کہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ فی الحال وہ فیصلے کا جائزہ لے رہا ہے۔ دارالعوام کے اسپیکر جان برکو نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آج بدھ کے روز دارالعوام کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پارلیمان کی معطلی کے بارے میں بورس جانسن کا موقف تھا کہ ایسا وہ حکومت کی نئی پالیسیوں کے خد و خال کو ملکہ کے خطاب سے پہلے واضح کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ارکان پارلیمان کو ان کے بریگزٹ پلان پر نظر رکھنے اور تنقید کرنے سے روکنا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی سربراہ لیڈی ہیل کا کہنا تھا کہ ملکہ عالیہ کو پارلیمان کے اجلاس کو ملتوی کرنے کا مشورہ دینے کا فیصلہ غیرقانونی تھا، کیوں کہ اس کا اثر پارلیمان کو بلا کسی جواز کے اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی سے روکنا یا محروم کرنا تھا۔ لیڈی ہیل کا کہنا تھا کہ 11 ججوں نے اتفاق رائے سے قرار دیا ہے کہ پارلیمان کا اجلاس ملتوی نہیں ہوا ہے۔ یہ فیصلہ غیر مؤثر اور باطل تھا، اور دارالعوام اور دارالامرا کے اسپیکرز کو اگلے اقدام کا فیصلہ کرنا ہے۔ اسپیکر برکو کا کہنا ہے کہ ایک واضح فیصلے کی روشنی میں ارکان کو پارلیمان میں آنا چاہیے۔ انہوں نے دارالعوام کے حکام کو اجلاس کی تیاری کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جو آج بدھ کی صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا۔ حزبِ اختلاف کی جماعت لیبرپارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے بورس جانسن کے جمہوریت کی توہین کو واضح کر دیا ہے۔