مولانا سید ابوالا علی مودوودی ؒ

70
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

میاں طفیل محمدؒ / سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان

سیدہ عائشہ ؓ سے بڑھ کر نبی کریمؐ کو جاننے اور پہچاننے والی شخصیت اور کون ہو سکتی تھی۔ ان سے لوگوں نے جب پوچھا کہ نبی کریمؐ کیسے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپؐ چلتا پھرتا قرآن تھے۔ میں بھی مولانا مودودیؒ صاحب کے بارے میں یہی کہتا اور کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی مرحوم‘ دعوت اسلامی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔
میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ ۳۵ سالہ رفاقت کے دوران ان کی کوئی بات اور کوئی حرکت‘ اسلام اور اسوہ رسولؐ سے ہٹی ہوئی نہیں دیکھی۔ میرا ان سے ایک ہی بات پر اختلاف تھا کہ وہ پان کھاتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ اسلام کے منافی تو نہیں ہے‘ میں اسے تمہارے لیے تو نہیں چھوڑوں گا‘ خدا کے لیے جب ضرورت ہو گی تو چھوڑدوں گا۔ چنانچہ اکتو بر ۱۹۴۸ء میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو جیل کے پھاٹک کے باہر انہوں نے پان تھوکا‘ پھر ۲۰ماہ جیل میں کبھی نہیں چکھا۔
شہر لاہور میں‘ مارچ ۱۹۵۳ء میں‘ جب ہم لوگوں کو گرفتار کر کے لاہور سینٹرل جیل میں لے جایا گیا۔ لاہور سینٹرل جیل میں ہی قائم کردہ مار شل لا کورٹ میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی‘ سید نقی علی اور ملک نصر اللہ خاں عزیز پر مقدمہ چلایا گیا۔ مار شل لا کورٹ میں مولانا مودودی نے جو بیان دیا وہ انہوں نے مجھے ہی لکھوایا تھا اور یہی بیان عدالت میں مولانا محترم نے پیش کیا۔
۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو ہم لوگ دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا مودودی کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے کہ دیوانی گھر وارڈ کا باہر کا دروازہ کھٹ سے کھلا اور ۱۴‘ ۱۵ فوجی اور جیل افسر اور وارڈر احاطے میں داخل ہوئے۔ اور جہاں ہم نماز پڑھ رہے تھے وہاں قریب آکر کھڑے ہو گئے۔ ہم نے سلام پھیرنے کے بعد عرض کیا: ’’فرمائیے‘ کیا حکم ہے‘‘۔ ایک فوجی افسر نے کہا: ’’آپ لوگ نماز سے فارغ ہو لیں‘‘۔ چنانچہ ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑ ے فوجی افسر نے جو مارشل لا کورٹ کا صدر تھا‘ اس نے پوچھا: ’’مولانا مودودی کون ہیں ؟‘‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مولانا مودودی کون ہیں‘ اس لیے کہ وہ تو عدالت میں کئی دن ان کے سامنے پیش ہوتے رہے تھے۔ بہر حال مولانا نے عرض کیا: ’’میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں‘‘، تو اس نے کہا: ’’آپ کو قادیانی مسئلہ تصنیف کر نے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ہے۔ آپ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں‘‘۔ مولانا نے بلا توقف فرمایا: ’’مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی‘ اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی‘‘۔ اس کے بعد اسی افسر نے کہا: ’’آپ نے مارشل لا کے بارے میں روزنامہ تسنیم میں جو بیان دیا ہے اس پر آپ کو سات سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔
اس کے بعد اسی افسر نے پوچھا: ’’نقی علی کون ہے؟‘‘ سید نقی علی کو بھی وہ خوب جانتا تھا کہ وہ بھی ان کی عدالت میں پیش ہوتے رہے تھے۔ بہر حال سید نقی علی نے عرض کیا: ’’میں ہوں نقی علی‘‘۔ اس افسر نے کہا: ’’تمہیں قادیانی مسئلہ چھاپنے کے جرم میں نو سال قید بامشقت کی سزادی جاتی ہے‘‘۔ سید نقی علی نے بھی جواب دیا: ’’آپ کا شکریہ‘‘۔
اس کے بعد اس افسر نے پوچھا: ’’نصراللہ خان عزیز کون ہے؟‘‘ ملک نصر اللہ خان نے جواب دیا: ’’میں ہوں نصراللہ خان عزیز‘‘۔ افسر نے کہا: ’’آپ کو روزنامہ تسنیم میں مولانا مودودی کا بیان شائع کرنے کے جرم میں تین سال قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔ ملک صاحب نے جواب دیا: ’’آپ کا شکریہ‘‘۔
یہ حکم سنانے کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور وارڈ کا باہر کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ احکام سننے کے بعد ہم لوگوں پر بظاہر کوئی اثر ہی نہ ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تیز بلیڈ یا تیزدھار چھری سے ہاتھ کٹ جانے سے فوراً درد محسوس ہی نہیں ہوتا‘ اسی طرح مولانا مودودی کی سزاے موت کا یہ حکم سننے کے بعد ہمیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔
کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ہیڈ وارڈن اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے آئے اور انہوں نے کہا: ’’مولانا تیار ہوجائیں‘ وہ پھانسی گھر جائیں گے‘‘۔ اس پر مولانا مودودی نے اطمینان سے اپنا کھلا پاجامہ تنگ پاجامے سے بدلا‘ جو وہ گھر سے باہر جاتے وقت پہنا کرتے تھے۔ سر پر اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی پہنی اور چپلی اتارکر سیاہ گر گابی جوتا پہنا اور اپنا قرآن مجید لے کر اور ہم سب سے گلے مل کر نہایت اطمینان سے پھانسی گھر روانہ ہو گئے۔
اس کے کوئی نصف گھنٹہ بعد پھر وارڈ ر آئے اور کہا: ’’ملک نصراللہ خاں عزیز اور سید نقی علی بھی چلیں۔ وہ سزا یافتہ قیدیوں کے بارک میں جائیں گے‘‘۔ چنانچہ وہ دونوں بھی مولانا امین احسن اصلاحی‘ چودھری محمد اکبر کو اور مجھ سے گلے مل کر وارڈروں کے ساتھ چلے گئے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد وارڈ ر مولانا مودودی کا جوتا‘ پاجامہ‘ قمیص اور ٹوپی لا کر ہمیں دے گئے کہ مولانا صاحب کو پھانسی گھر کے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں۔ ان چیزوں کی اب ضرورت نہیں ہے۔ اس پر پہلی مرتبہ ہم لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ہو کیا گیا ہے۔
اب مولانا امین احسن اصلاحی‘ مولانا مودودی کی قمیص‘ پاجامہ اور ٹوپی کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی اپنے سر پر رکھتے‘ کبھی آنکھوں پر لگاتے اور بے تحاشا روتے ہوئے کہتے جاتے کہ: ’’مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مولانا مودودی بہت بڑے آدمی ہیں‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خدا کے ہاں مودودی صاحب کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے‘‘۔ چودھری محمد اکبر بھی روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں چلے گئے اور میں بھی روتا ہوا صحن میں ایک طرف نکل گیا اور ساری رات اسی طرح سے گزرگئی۔ میرے دل میں کبھی تو یہ خیال آتا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان ظالموں کو مولانا کو پھانسی پر لٹکانے کا موقع نہیں دے گا۔ لیکن اگلے ہی لمحے خیال آتا جس خدا کے سامنے اس کے رسولؐ کے نواسے امام حسین ؓ کو ظالموں نے تپتی ریت پر لٹا کرذبح کر دیا‘ اس کے ہاں بھلا مودودی کی کیا حیثیت ہے۔ جس خدا کی زمین پر رات دن لاکھوں کروڑوں نہایت حسین پھو ل کھلتے اور مرجھا جاتے ہیں اور کوئی آنکھ ان کو دیکھنے والی بھی نہیںہوتی‘ اسے ایک مودودی کی کیا پروا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں ساری رات گزر گئی۔
اگلی صبح ایک وارڈر نے آکر بتایا: ’’مولانا مودودی تو عجیب آدمی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ پھانسی گھر گئے‘ وہاں کا لباس پہنا‘ جنگلے سے باہر پانی کے گھڑے سے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی اور ٹاٹ پر لیٹ کر تھوڑی دیر بعد خراٹے مارنے لگے۔ حالانکہ ان کے آس پاس پھانسی گھرکے دوسرے قیدی چیخ و پکار میں مصروف تھے‘‘۔
مولانا مودودی کو پھا نسی کی سزا کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ انڈونیشیا کی اسلامی پارٹی کے وزیر اعظم ڈاکٹر ناصر نے حکومت پاکستان سے کہا کہ: ’’پاکستان کو مودودی صاحب کی ضرورت نہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے۔ پاکستان ان کو انڈونیشیا بھجوا دے‘‘۔ سعودی عرب نے اس سزا کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ علیٰ ھذا القیاس بہت سے دوسرے ممالک کے مسلمانوں نے بھی اور پاکستان میں تو ہرجگہ سے احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیسرے ہی روز حکومت پاکستان نے اعلان کر دیا کہ مولانا مودودی اور مولانا عبدالستار خاں نیازی کی سزاے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ چنانچہ مولانا مودودی کو پھانسی گھر سے جیل کے بی کلاس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔
ہم لوگوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے درخواست کی کہ ہمیں مولانا مودودی سے ملاقات کی اجازت دی جائے‘ چنانچہ ہمیں اس کی اجازت مل گئی تو ہم لوگ بی کلاس وارڈ میں جا کر مولانا سے ملے۔ مولانا کا سارا سامان چونکہ گھر بھیج دیا گیا تھا‘ اس لیے میں اپنا ایک ململ کا کرتہ‘ لٹھے کا پاجامہ اور بستر کی ایک چادر ساتھ لے گیا اور کھدر کے کرتے پاجامے کی جگہ یہ کپڑے ان کو پہنا دیے۔ مولانا مودودی کا پورا جسم گرمی اور کھدر کے موٹے کُرتے پاجامے کی وجہ سے گرمی دانوں سے بھرا پڑا تھا۔ اسی بی کلاس وارڈ میں مولانا عبد الستار خاں نیازی اور مولانا خلیل احمد خلف مولانا ابو الحسنات سے بھی ملا قات ہوئی۔ (بقیہ:صفحہ11پر)
چند دن کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی کو لاہور سینٹرل جیل سے میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا اور پھر کچھ دن کے بعد ہی انہیں میانوالی جیل سے ڈسٹرکٹ جیل ملتان بھیج دیا گیا‘ جہاں ان کو ایک وارڈ کے کھلے میدان میں ٹین کے بنے ہوئے الگ گول کمرے میں رکھا گیا‘ جو جون‘ جولائی کی دھوپ میں تپ کر جہنم بن جاتا تھا‘ لیکن اس کے باوجود مولانا نے نہ کبھی کوئی شکایت کی اور نہ اس پر کوئی احتجاج فرمایا۔ اس سے اہل حکومت کو اور پریشانی ہوئی کہ ان کا کوئی حربہ بھی مولانامودودی کو ان سے فریاد کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کامیاب نہیں ہو پاتا۔ ملتان ڈسٹرکٹ جیل میں دو مرتبہ میں نے مولانا مودودی سے ملاقات کی۔ وہ ان ساری تکالیف کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے تھے اور کبھی ہم سے بھی انہوں نے اپنی کسی تکلیف یا پریشانی کا اظہار نہیں فرمایا۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی کی یہ عمر قید عملاً ۱۴ سال قید با مشقت کی تھی۔ اگرچہ یہ مارشل لا کورٹ کے تحت دی گئی تھی اور مارشل لا ختم ہو جانے کے بعد اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن مارشل لا کے تحت سارے احکام اور سزائوں کو انڈمنٹی ایکٹ کے تحت برقرار رکھا گیا تھا‘ اس لیے یہ سزائیں مارشل لا اٹھ جانے کے باوجود بھی قائم اور جاری تھیں۔
ملک غلام محمد گورنر جنرل کی حکومت مولانا مودودی کو ۱۴ سال قید با مشقت کی سزا دے کر مطمئن ہو گئی کہ ان کی مولانا مودودی اور ان کی اسلامی دستور کی تحریک سے جان چھوٹ گئی اور اب وہ اپنا من مانا سیاسی نظامِ حکومت‘ پاکستان پر مسلط کر سکیں گے۔ لیکن کارساز مابکارِ کارِما۔ ہوا یہ کہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین ملک کے وزیر اعظم بن گئے تھے۔ مولوی تمیز الدین خاں پہلی دستور ساز اسمبلی جو ملک کی پارلیمنٹ بھی تھی اس کے صدر تھے‘ ان کا موقف یہ تھا: ’’سلطنت برطانیہ نے اقتدار مجلس دستور ساز کو منتقل کر کے اس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے دستور مملکت وضع کر کے اقتدار باشندگان پاکستان کو منتقل کرے‘ اس لیے اب جو دستور اور قانون بھی یہ مجلس دستور ساز کی حیثیت سے بنائے اس کے لیے گورنر جنرل جو ملکہ برطانیہ کا نمائندہ ہے اس کی منظوری اور دستخطوں کی ضرورت نہیںہے۔ وہ مجلس دستور ساز کے صدر مولوی تمیز الدین خاں کی منظوری اور دستخطوں سے قانون اور ملک کا دستور بن جائے گا‘‘۔ چنانچہ لاہور کے مارشل لا اٹھنے کے بعد جو انڈمنٹی ایکٹ‘ مجلس نے پاس کیا تھا اس پر گورنر جنرل ملک غلام محمد کے نہیں‘ بلکہ مولوی تمیز الدین کے دستخط کرائے گئے تھے اور مار شل لا اٹھ جانے کے بعد اس کی کارروائیوں اور فیصلوں کو مستقل حیثیت دے دی گئی تھی۔ لیکن ملک غلام محمد گورنر جنرل کے مجلس دستور ساز اور پارلیمنٹ کو توڑنے کے حکم کے خلاف مولوی تمیز الدین کے مقدمے میں جسٹس محمد منیر چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ان کے بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ پاکستا ن کی پارلیمنٹ خواہ پارلیمنٹ کی حیثیت سے یا مجلس دستور ساز کی حیثیت سے کوئی کارروائی کرے‘ اس کا کوئی فیصلہ گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر قانونی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجلس کا پاس کر دہ انڈمنٹی ایکٹ بے اثر اور کالعدم ہو گیا‘ کیونکہ اس پر گورنر جنرل کے دستخط نہیں تھے۔ اس لیے جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی سزا کو کالعدم کرانے کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں میاں منظور قادر ایڈووکیٹ کے ذریعے سے رٹ دائر کردی اور ہائی کورٹ نے رٹ منظور کرتے ہوئے سید ابو الاعلیٰ مودودی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا‘ چنانچہ مولانا مودودی ۲۸ مئی ۱۹۵۵ء کو ڈسٹرکٹ جیل ملتان سے رہا ہوکر گھرآ گئے۔
مولانا مودودی کی سزاے موت کے خلاف رٹ کی اس کارروائی کو اللہ تعالیٰ نے میاں منظور قادر کو منکر خدا سے ایک مومن و مسلم میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بھی بنا دیا۔ ہوا یوں کہ اس سلسلے میں ان سے میرا رابطہ اور بے تکلفی ہوئی تو میں نے ایک روز تفہیم القرآن کا پورا سیٹ لے جا کر میاں منظور قادر کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’میاںصاحب‘ آپ کو تو معلوم ہو گا کہ میں تو خدا کو نہیں مانتا‘‘۔ میں نے عرض کیا: ’’میاں منظورقادر آپ نے ہزاروں کتابیں ہر فن میں پڑھی ہیں‘ ان کو بھی پڑھ ڈالیں۔ آپ کو معلوم تو ہو کہ مولانا مودودی کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟‘‘ چنانچہ انہوں نے تفہیم القرآن کا سیٹ لے کر رکھ لیا۔
میاں منظور قادر کچھ عرصے بعد جگر کے کینسر میں مبتلا ہو گئے۔ وہ علاج کے لیے سی ایم ایچ لاہور میں داخل ہو گئے۔ میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو کافی مضحمل تھے۔ مجھ سے فرمایا:
Mian Sahib, now I have made peace with my Lord.Now I am prepared to meet Him.
اور کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون!