مولانا سید ابوالا علی ۔۔۔ اسلام کے کامیاب مبلغ اور داعی

68
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

سینیٹرسراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان

سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ جہد مسلسل اور ایک وژن کا نام ہے۔ انہوں نے مخلوق خدا کو اپنی طرف نہیں بلکہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی طرف بلایا ہے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ایک ہی درس ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐکے پیغام سے آپ سب سے پہلے اپنے دل کو منور کریں۔ اور پھر سارے جہان میں اس نور کو پھیلا دیں۔ مولانا مودودیؒ نے بے پناہ علمی کام کیا اور قریباً ہر اہم موضوع پر دلائل و براہین سے ثابت کیا کہ انسانیت کی رہنمائی کتاب اللہ اور سنت رسولؐ میں ہے۔ انہوں نے معیشت اور سیاست پر بھی بات کی اور سماجیات پر بھی کتب تحریر کیں۔ سودکی ممانعت اور پردے کی افادیت پر ان کی کتابیں ایک علمی خزانہ ہیں۔ سید مودودیؒ نے اپنی اس فکر کو پھیلانے اور دیے سے دیا جلانے کے لیے جماعت اسلامی کی صورت میں ایک منظم جماعت قائم کی۔ دنیا میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ایک آدمی مفکر، مدبر اور مفسر بھی ہو، دانشور اور فلسفی ہو، محدث اور ادیب ہو اور اس نے کوئی سیاسی جماعت بھی بنائی ہو۔ لیکن دنیا بھر میں شاید سید ابوالاعلیٰ موددی ؒہی وہ واحد شخصیت ہیں، جنھوں نے جماعت اسلامی کی شکل میں ایک سیاسی تحریک کو اٹھایا۔ اس سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انہیں جیل بھی جانا پڑا، بہت سارے لوگ جیل میں جاتے ہیں لیکن قید کے ایام کو انسانیت کی راہنمائی اور بھلائی کا ذریعہ بنانا شاید سید مولانا مودودیؒ کی قسمت میں لکھا تھا کہ وہ جیل میں گئے تو وہاں انہوں نے تفہیم القرآن جیسی شہرہ آفاق تفسیر لکھ کر نئی نسل کو ایک ایسا تحفہ دیا جس کی نظیر کم ہی ملے گی۔ تفہیم القرآن نے بلاشبہ لاکھوں نوجوانوں کو کفر و الحاد کے پھیلائے ہوئے جال سے بچا کر مومنانہ زندگی کا خوگر بنا دیا۔ مولانا مودودیؒ نے سب سے زیادہ ہمارے زمانے کو متاثر کیا،خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ کو انہوں نے اپنے لٹریچر کے ذریعہ بے حدمتاثر کیا۔ ان کا اصل ہدف بھی نئی نسل کی رہنمائی اور انہیں زمانے کی چکاچوند سے بچانا اور اسلام کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنا کر ایک جہد مسلسل کے لیے تیار کرنا تھا وہ نوجوانوں کو دین کے خادم بنانا چاہتے تھے۔ میرے خیال میں مولانا مودودیؒ اس زمانے میں اللہ رب العزت کا ایک خصوصی انعام اور احسان تھا۔ سید مودودیؒ نے خود کو بیسویں صدی کے ایک مصلح، مبلغ اور داعی کے طور پر منوایا اور اپنی تعلیمات کو آنے والے ہر زمانے کے لیے روشنی کا ذریعہ بنا گئے۔ سید مودودیؒ شاہ ولی اللہؒ، مجدد الف ثانیؒ، شاہ عبدالقادر جیلانی، علی ہجویریؒ ہی کا تسلسل ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر زمانے میں ایسے لوگ موجود رہیں جو لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنے کا فریضہ سرانجام دیں، ہمارے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ سے خیر کا یہ کام لیا ہے۔۔!
مولانا مودودیؒ اس لحاظ سے کامیاب ٹھیرے کہ وہ ایک نظریاتی شخصیت اور اسلام کے ایک کامیاب مبلغ اور داعی تھے۔ کامیاب مبلغ وہی ہوتا ہے جو اپنی تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو اپنے موقف پر قائل کرتا اور اپنے نظریہ کو غالب کرتا ہے، اگرچہ سید مودودیؒ نے خود کبھی حکومت کی نہ سرکاری ایوانوں میں گئے، لیکن ان کی کوششوں سے دین کو بحیثیت ایک نظام زندگی سیاست، معیشت اور تعلیم سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں داخل کردیا، انہوں نے عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ زندگی کے تمام مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے، آج ساری دنیا میں اس فکر کو غلبہ حاصل ہورہا ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ممالک جن میں اسلام کا نام لینا مشکل تھا، اب وہاں کی نئی نسل کے ہاتھوں میں قرآن نظر آتا ہے اور جگہ جگہ مساجد ہیں جن میں بزرگوں اور ضعیفوں سے زیادہ تعداد میں نوجوان اللہ کے حضور سربسجود نظر آتے ہیں۔ یہ نوجوان ہر جگہ اسلامی انقلاب کے علمبردار بنے ہوئے ہیں، اس طرح کسی زمانے میں اسلام کا جو تصور مسجد کے کونے تک محدود تھا اب وہ بازاروں، حکومتی ایوانوں، عدالتوں اور دفاتر میں چلتا پھرتا اور آگے بڑھتا نظر آئے گا۔ الحمدللہ! اسلام کے نور کی کرنیں دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں جس سے کفر کا اندھیرا چھٹ رہا ہے، اسلام ہر جگہ پھلتا پھولتا نظر آرہا ہے، بلاشبہ یہ عالمی اسلامی تحریکوں کی بہت بڑی کامیابی ہے جس میں مولانا مودودیؒ، سید قطب شہید ؒ اور سید حسن البنا شہید ؒ کی فکر کارفرما ہے۔
سید مودودی ؒ کی 40ویں برسی پر میں پاکستانی عوام کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان جس نظریے کی بنیاد پر بنا ہے، وہ ہے لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ؐ، پاکستان مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں دوسری نظریاتی ریاست ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس نے عالم اسلام کو دیا ہے۔ اگر ہم سب مل کر پاکستان کو اُس تصور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں جو تصور علامہ اقبالؒ، قائداعظم محمد جناحؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒاور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تھا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی اور پاکستان واقعی اپنے مقصد قیام کو پورا کرسکے گا۔ اگر ہم پاکستان کو ایک روشن، اور مستحکم پاکستان بنالیں جو جہالت، غربت، مہنگائی اور بیروزگاری اور ہر طرح کے استیصال سے پاک ہو، تو ہم وہ پاکستان بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا جس کی تعبیر قائد اعظم ؒ نے لکھی تھی اور جس کی تعمیر سید مودودیؒ کرنا چاہتے تھے۔ یہی اسلامی و خوشحال پاکستان کا ایجنڈا ہے جو ہم نے قوم کو دیا ہے۔
٭٭٭