آزاد کشمیر میں زلزلے نے تباہی مچادی 26 جاں بحق،400 زخمی ،عمارتیں منہدم،سڑکیں ٹوٹ گئیں

114

اسلام آباد/مظفرآباد/پشاور(خبرایجنسیاں) آزاد کشمیر میں زلزلے نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں 26افراد جاں بحق اور 400سے زائد زخمی ہوگئے، عمارتیں منہدم اور سڑکیں ٹوٹ گئیں، 3پل بھی تباہ ہوگئے ، گاڑیاں زمین میں دھنس گئیں۔پاک فوج کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں کے لیے متاثرہ علاقوں پہنچ گئی ہیں۔اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم اور میرپور کا علاقہ تھاجب کہ گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔ زمین میں گہرائی کم ہونے کی وجہ سے قریبی علاقوں میں زیادہ نقصانات کا خدشہ ہے۔زلزلے کے جھٹکے 15 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے۔سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی کی اطلاعات آزاد کشمیر کے علاقے میرپور اور جاتلاں سے ملی ہیں جہاں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔سڑکیں تباہ ہونے کے باعث کئی علاقوں سے زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے۔محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو زلزلے سے متعلق ابتدائی رپورٹ بھیجی ہے جس کے مطابق زلزلے میں 26 افراد جاں بحق اور 400سے زائد زخمی ہوئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے۔میرپور اور جاتلاں سے موصول ہونے والی وڈیوز اور تصاویر میں شدید تباہی کے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہاں پر متعدد سڑکوں میں بڑے بڑے شگاف پڑ گئے ہیں اور متعدد گاڑیاں ان میں دھنس گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر راجا قیصر نے زلزلے کے نتیجے میں ایک خاتون کی بھی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔راجا قیصر کا کہناتھا کہ پاک فوج ، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور دیگر ریسکیو اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور نقصانات کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے متاثرہ علاقے میں ریلیف کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کو ہر قسم کی معاونت کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اِن دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں ۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے آرمی کے دستے اور میڈیکل اسٹاف روانہ کیا گیا جو متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے میرپور میں نقصانات کا فضائی جائزہ مکمل کرلیا، جڑی کس اور چاتلاں کے علاقوں میں فضائی جائزہ لیا گیا۔پاک فوج کے دستوں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں جن میں میرپور، جاتلاں اور جری کس کے علاقے شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیاں رات بھر جاری رہیں گی۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں، بارشوں کی پیش نظر ٹینٹ،کمبل دیگر اشیاء رات تک متاثرہ علاقوں میں پہنچائیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ پہلے ایک سے 2 روز ہمارا فوکس ریسکیو آپریشن پر ہو گا جس کے بعد متاثرین کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق منگلا ڈیم کو نقصان نہیں پہنچا، احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے ٹربائن بند کی تھیں، ابھی حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں، اگر ضرورت پڑی تو عوام سے مدد کی اپیل کریں گے۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے، وہ دور دراز کے علاقے نہیں ہیں،بہت جلد وہاں امدادی کارروائیاں شروع کردی جائیں گی جب کہ متعدد علاقوں میں سویلین انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے میرپور کے ایک قصبے میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔وزیراطلاعات آزاد کشمیر مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے اپنا دورہ ملتوی کردیا ہے اور وہ خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔اپر جہلم نہر میں شگاف پڑنے سے قریبی 15 گاؤں میں پانی داخل ہوگیا ہے جب کہ آزاد کشمیر حکومت کے پاس اس وقت ایسے وسائل نہیں کہ شگاف بند کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے امداد کی ضرورت ہے۔صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر میں زلزلے سے جانی اور مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔صدرمملکت نے زلزلے میں جاں بحق افراد کی بلندی درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیاہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔پنجاب میں لاہور، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، قصور، خانیوال، گجرات، کامونکی، مریدکے، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، پتوکی، چونیاں، پاکپتن، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، نارنگ منڈی اور سیالکوٹ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، سوات، خیبر، ایبٹ آباد، باجوڑ، نوشہرہ، مانسہرہ،بٹگرام، تورغر، شانگلہ، بونیر، دیر،اپر دیر، لوئر،چترال، مالاکنڈ اور کوہستان میں بھی زلزلے کی جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ دفاتر اور گھروں سے باہر نکل آئے۔یاد رہے کہ 8اکتوبر 2005ء کی صبح آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے نے آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کو اس بری طرح جھنجوڑا کہ 80000 انسان لقمہ اجل بن گئے جب کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔2005ء میں 7.6شدت کے اس زلزلہ کا مرکز مظفرآباد سے 20کلومیٹر شمال مشرق میں تھا ابتدائی نقصان کا تخمینہ تقریبا 124ارب روپے لگایا گیا۔