کراچی میں کان اور ناک میں گھسنے والے کیڑے مکوڑوں کی بھرمار

144

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے مختلف علاقوں میں کان اور ناک میں گھسنے والے کیڑے مکوڑوں کی بھرمار ہوگئی، کیڑوں کے کاٹنے کی صورت میں الرجی ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماحولیاتی ماہرین نے بتایا کہ کراچی میں کان اور ناک میں گھسنے والے کیڑے مکوڑوں کی بھرمار ہوگئی ہے جس کی وجہ بارش یا درجہ حرارت ہوسکتی ہے،

ماہرین کے مطابق یہ کیڑے مکھیوں کی ایک قسم ہے جو دوسرے شہروں سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے ہیں خدشہ ہے کہ یہ کیڑے کان اور ناک میں گھس سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ماہرین نے کہا کہ کیڑوں کی آمدکی وجہ شمال مشرقی بحیرہ عرب میں سائیکلون ہوسکتی ہے،

کیونکہ بحیرہ عرب میں بننے والی ڈیپریشن نے ہواوں کا رخ تبدیل کیا ہے۔تاہم ہواوں کی تبدیلی سے کراچی سمیت حیدرآباد اور سندھ کے مختلف شہروں میں یہ کیڑے آئے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اکتوبر میں یہ کیڑے مشرق وسطی اور افریقہ کی جانب سفر کرتے ہیں۔اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ کیڑوں کے کاٹنے کی صورت میں الرجی ہوسکتی ہے،

کراچی کو آلودگی، کچرے کو ٹھکانے نہ لگانے اور بارشوں کے دوران نکاسی آب کا نظام مفلوج ہونے کے باعث جگہ جگہ گندا پانی جمع ہونے کی وجہ سے پہلے ہی مچھروں اور مکھیوں کی بہتات کا سامنا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ شہریوں نے ان سے ابھی جان ہی چھڑوائی تھی کہ اب کراچی کے باسیوں پر اڑنے والے دوسرے قسم کے حشرات الارض نے حملہ کردیا ہے،

شہر پر ہونے والی کیڑے مکوڑوں کی حالیہ یلغار کی وجہ سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔کراچی میں برسوں بعد صفائی مہم کے باعث جیسے ہی کچرا اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس میں پلنے والے حشرات الارض نے آبادیوں کا رخ کرلیا ہے،ان کیڑوں نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا جبکہ ماہرین کا ماننا ہے ایسے کیڑوں کے کاٹنے سے الرجی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے کیڑے کسی انسان کے کان اور ناک میں گھس سکتے ہیں لیکن اب تک اس حوالے سے ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے،

گزشتہ رات کراچی ائرپورٹ کے لاؤنج اور بورڈنگ برج میں ان کیڑوں نے سب کو پریشان کردیا۔جبکہ گلستان جوہر، ناظم آباد، گڈاپ، گلشن معمار، آئی چندریگر روڈ اور دیگرعلاقوں میں بھی ان کی بڑی تعداد شہریوں کو پریشان کرتی رہی ہے،

کراچی میں بچوں کے علاج کیلئے سب سے بڑے اسپتال نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں بھی لال بیگ سمیت دیگر کیڑے مکوڑوں کی بھرمارہوگئی ہے،

اسپتال کی نیبولائزر مشین، آکسیجن، سلینڈراور ادویات والے حصے میں بھی کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے مریض بچوں میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کیڑوں کی وجہ بارش یا درجہ حرارت ہو سکتی ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں آنے والے ان کیڑوں کے کاٹنے سے الرجی بھی ہوسکتی ہے۔