امان اللہ زہری کا قتل قبائلی تنازع نہیں سیاسی تھا، اختر مینگل

82
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل جلسے سے خطاب کر رہے ہیں
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل جلسے سے خطاب کر رہے ہیں

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ نواب امان اللہ زہری کا قتل قبائلی تنازع نہیں بلکہ سیاسی قتل تھاگزشتہ حکومت کیخلاف جب تحریک عدم اعتماد لا ئی گئی اور ان کی حکومت ختم کی گئی اور2018میں مفاد پرستوں کو شکست ہوئی جس کا بدلہ نواب امان اللہ زہری سے لیا گیا ،ہم نے اسلام آبادجاکر وزارتوں اور وزیر اعلیٰ شپ کے عیوض اپنی غیرت کاسودا نہیں کیا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ شپ کے لیے مورچے لگائے،بلوچستان کے حقوق کے لیے جان کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کروں گا،کیا کسی لاپتا ماں کے آنسو روکنے اور صوبے کی ترقی اگر سودا ہے تو کرینگے، جو سردار اپنے عوام کی حفاظت نہ کرسکے اسے سرپرستی کا حق نہیں ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ہاکی گرائونڈ میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ،مرکزی رہنماء حاجی لشکری رئیسانی ،اختر حسین لانگو ،بی ایس او کے چیئر مین نذیر بلوچ نے بھی خطاب کیا ۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہمارا اور امان اللہ زہری کا 30سالہ سیاسی رشتہ تھا بلوچستان میں مختلف قبائل آباد ہیں اور ہرقبیلے کااپنا احترام ہوتا ہے چاہیے وہ قبیلہ کتنا ہی کمزور اور طاقتور نہ ہو ہم ہر قبیلے کا احترام کرتے ہیں طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ بلوچیت کی وجہ سے احترام کرتے ہیں ، حکمرانوں نے بلوچستان کے قبائل کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے دست وگریبان کیا ، بلوچستان کے لوگوں میں مایوسی پیدا کرنے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جمہوری سیاست سے ہر دور میں دور رکھنے کی کوشش کی گئی بلوچستان میں 5 آپریشن ہوئے لیکن عوامی حقوق کی تحریک ختم نہیں ہوئی ۔