پاکستان میں تقریباً 5لاکھ افراد حافظے کی کمزوری (الزائمر) میں مبتلا ہیں،پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع

134

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حافظے کی کمزوری (الزائمر) کو بڑھاپے کی علامت سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے،پاکستان میں تقریباً 5لاکھ افراد حافظے کی کمزوری (الزائمر) میں مبتلا ہیں،پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21ستمبرکو عالمی یوم یاداشت (الزائمر) کے حوالے سے آگاہی کے عالمی دن کے حوالے سے نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کے زیراہتمام جمعے کو کراچی پریس کلب میں ماہرین دماغ واعصاب و نفسیاتی امراض پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع،ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر عبدالمالک، ڈاکٹرروی شنکر،ڈاکٹر قرۃ خان نے عالمی یوم یاداشت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 5لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے،

اس کی ابتدائی علامات میں حافظہ کی کمزوری، یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے۔جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننااور گھرکے پتے سمیت اپنے بچوں اورقریبی عزیزواقارب تک کوبھولنا شروع ہو جاتاہے۔ اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہو جاتی ہے،جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،

انہوں نے کہا کہ ڈیمینشیا کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی۔ عموماً 60سال کی عمر کے بعد دماغ کے خلئے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچارتک نہیں کر سکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہو جاتا ہے،

ڈاکٹر واسع نے مزید نے کہاٍکہ الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا لیکن وٹامن بی 12کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60سال سے زائد عمر کے 10فیصد افراد کو یہ بیماری لاحق ہے۔یہ بہت تیزی سے بڑھتی ہے اس لئے ابتدا میں اس کی تشخیص بہت ضروری ہے۔ اگرچہ اس بیماری کو ختم نہیں کیا جاسکتا تاہم بروقت تشخیص کے بعد اس کی پیچیدگیوں اور رفتار کو کم کیا جاسکتاہے۔

نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاونڈیشن (نارف) کے جنرل سیکریٹری ایسوسی ایٹ پروفیسر نیورولوجی ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ اس سلسلے میں عوام میں ا?گہی بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرگھر کے بزرگوں میں اس طرح کی علامتیں پائی جائیں تو اسے بڑھاپا سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔پاکستان میں اس کا علاج اور تمام دوائیں دستیاب ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو افراد زیادہ سوچ بچار، دماغ کے زیادہ استعمال اور ورزش سمیت صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرتے ہیں انہیں اس بیماری میں مبتلا ہونے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “نارف” گذشتہ ایک دہائی سے اعصابی و دماغی امراض کے حوالے سے آگہی،علاج اور امراض کی روک تھام کے لیے کوششیں کررہا ہے ضرورت اس امر کی ہے اس کام کو حکومتی سرپرستی اور سطح پر شروع کیا جائے تاکہ پاکستان میں ان امراض میں اضافے کی شرح کو روکا جاسکے۔

کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر روی شنکر نے کہا کہ الزائمر کی تشخیص ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جو کہ دماغ کی بائیوپسی سے ہی صحیح طور پر کی جا سکتی ہے۔ لیکن دماغ کا سی ٹی اسکین اور بعض دیگر طبی تجزیوں سے بھی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا کسی شخص کو امکانی طور پر الزائمر کا مرض ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ الزائمر کا مرض موروثی بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ انسان کا طرز زندگی بھی اسے بڑھانے میں بڑی حد تک کردار ادا کرتا ہے۔صحت مند ذہن کے لیے متحرک زندگی، سادہ اور موزوں غذا بہت ضروری ہے اور ایک صحت مند ذہن ہی صحت مند معاشرے کو تشکیل دے سکتا ہے۔