تنازعات کے حل کے لیے ”قصہ گوئی“ سوچ کے نئے زاویے متعارف کراتی ہے، مقررین

80

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)کہانی سننا، مختلف تہذیب سے آگاہی اور اجتماعی اخلاقیات کا شعور دیتا ہے قصہ گوئی کے ذریعے سماجی تبدیلی کے عنوان سے میڈیا بیٹھک نے مکالمہ سیشن کا اہتمام کیا گیا،

جس میں شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نسلی تنازعات کے پرامن حل اور تبدیلی کے لیے قصہ گوئی کا اہم کردار رہا ہے۔ کہانی کہنے کی روایت معاشرتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف نئی سوچ کو پروان چڑھاتی ہے،اس موقع پر سنئیر فنکارہ جہاں آرا حئی کا کہنا تھا کہ قصہ گوئی کا آغاز اس وقت سے ہوا جب انسان نے ایک دوسرے سے گفتگو کی شروعات کی تھی انہوں نے کہا کہ کہانیاں ناصرف مختلف تہذیب سے آگاہی کے ساتھ اور اجتماعتی اخلاقیات کا شعور دیتی ہے، بدقسمتی سے دور حاضر میں کہانی سنانے کی روایت دم توڑتی جارہی ہے،تھیٹر اداکار اور ہدایتکار فواد خان کے مطابق اساتذہ کو نوجوان نسل کو کہانیوں کو بہتر انداز میں پہنچانے کے لیے قصہ گوئی کی باریکیوں اور تیکنیک کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ثقافت اس وقت بے معنی اور اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے جب زبان کو ترک کردیا جائے،اردو سے ناطہ جڑا رہے گا تو کہانی کی بنیاد معاشرے میں برقرار رہے گی،

فیشن آئی کون یوسف بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ لوک داستانیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،تاہم بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قصہ گوئی کے انداز میں نت نئی جدت لانے کی ضرورت ہے،مقررین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قصہ گوئی ایک ایسا فن ہے جسے دنیا نے سراہا ہے۔ درحقیقت یہ ایک ایسا بامقصد فن ہے جو معاشرے میں انتہا پسندی کے اٹھتے طوفان کو دھکیلنے میں کامیاب ہوتا ہیجس کے ذریعے سوچ کے نئے زاویے انسان کو امن اور سکون کا احساس دلاتے ہیں۔