پاکستان نے ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کرلی

93

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)پاکستان نے پانچ سال بعد ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کرلی ہے۔ موثر مارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی آم نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہتر قیمت حاصل کی ہے اور رواں سیزن آم کی ریکارڈ ایکسپورٹ کا امکان ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر وحید احمد کے مطابق رواں سال آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا کرلیا گیا ہے، ستمبر کے وسط تک ایک لاکھ پندرہ ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاچکا ہے اور چار سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل ہوا ہے جبکہ پانچ سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔ وحید احمد کے مطابق ایکسپورٹ کا سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جارہی رہے گا اور سیزن کے اختتام تک ایک لاکھ تیس ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا امکان ہے۔ ایک لاکھ ٹن آم کی برآمد سے پاکستان کو 80ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں آم کی ایکسپورٹ میں مالیت اور حجم دونوں لحاظ سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سیزن آم کی پیداوار 13لاکھ ٹن رہی تھی جبکہ ایکسپورٹ 85ہزار ٹن رہی تھی۔ رواں سیزن آم کی پیداوار 15لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔ وحید احمد کے مطابق آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ کی وجہ موثر مارکیٹنگ ہے، اس سال سیزن کے دوران دنیا کے 25ملکوں میں آم کی تشہیر (پروموشن)کی گئی، یہ تشہیری سرگرمیاں پاکستانی سفارتخانوں، قونصل خانوں اور پی ایف وی اے کے تحت کی گئیں جن میں پاکستانی آم کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا اور پروموشن میں شریک افراد نے پاکستانی آم کے ذائقے اور خوشبو کو سراہا۔ پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ کی ایک اور وجہ پاکستان میں آم کی پیداوار کا سیزن ہے جو جولائی سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، اس دوران دنیا کے آم پیدا کرنے والے ملکوں میں آم کی پیداوار نہیں ہوتی اور آم کے شوقین ممالک میں پاکستانی آم ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ رواں سیزن لیٹ ورائٹی کی پیداوار بھی اچھی رہی اور موسمیاتی چیلنجز کے باوجود فارم کی سطح پر آم کی قیمت بھی 75 روپے سے 85 روپے تک مستحکم رہی۔ ادھر آم کے ایکسپورٹرز پی ایف وی اے کے اراکین نے آم کے معیار اور جدید پیکیجنگ پر توجہ دی جس سے پاکستان کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ رواں سیزن پاکستان کی روایتی منڈیوں متحدہ عر ب امارات، ایران اور افغانستان پر توجہ مرکوز کی گئی اس کے علاوہ یورپ اور برطانیہ کو بھی آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا۔ وحید احمد کے مطابق پاکستان میں آم کی پیداوار بڑھ رہی ہے ، فارمرز بین الاقوامی معیار اور جدید طریقوں کے مطابق آم کے باغات لگارہے ہیں جہاں سے اعلیٰ معیار کا آم حاصل ہورہا ہے ،بالخصوص خیبرپختونخوا کے علاقوں میں آم کی پیداوار کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور آئندہ پانچ سال میں ان علاقوں سے آم کی بھرپور پیداوار حاصل ہوگی۔