کتوں کی بھرمار، علاج نا یاب

130

سندھ کے شہر شکار پور میں سگ گزیدگی کے نتیجے میں ماں کی گود میں ایک بارہ سالہ بچے کے مرنے کی خبروں پر سیاست جاری ہے ۔ حزب اختلاف کا پورا زور ہے کہ مذکورہ بچے کی موت کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے کیوں کہ سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین برسوں سے موجود ہی نہیں ہے ۔ حکومت کا جواب ہے کہ اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین تو موجود ہے مگر بچے کی موت کے ذمہ دار اس کے والدین ہیں کیوں کہ وہ بچے کو بروقت اسپتال لے کر نہیں آئے اور وقت گزرنے کی وجہ سے مرض ناقابل علاج ہوچکا تھا ۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے بچے کی موت کا الزام والدین پر لگایا ہے۔شکر ہے انہوں نے الزام کتوں پر نہیں دھر دیا جو پورے سندھ میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نو عمر چیئرمین بلاول زرداری نے بھی اسے سندھ کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کتّے کہاں نہیں ہیں۔ سعید غنی نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے ہر اسپتال میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہے۔ یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ سانگھڑ کی ایک بچی کو اس کے والدین پانچ دن سے لیے پھر رہے ہیں اور شہر شہر ویکسین ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ ویکسین نہیں ہے، کل آنا۔ باخبر وزیر اطلاعات ذرا کسی کو بھیج کر معلوم تو کریں کہ کس سرکاری اسپتال میں ویکسین موجود ہے تاکہ اس بچی کا علاج ہو سکے ورنہ وہ کہہ دیں گے کہ والدین نے بہت دیر کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں بھی صرف جے پی ایم سی میں یہ ویکسین دستیاب ہے جہاں روزانہ سگ گزیدگی کے سیکڑوں مریض لائے جارہے ہیں۔ ویسے تو سندھ کے ہر اسپتال کی حالت خراب ہے لیکن کتے کے کاٹے کی وکسین نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھارت سے درآمد کی جاتی تھی جو اب بند کر دی گئی ہے کیونکہ بھارت میں بھی بہت کتے ہو گئے ہیں جو ہر ایک کو بھنبھوڑتے پھر رہے ہیں۔ بھارت سے ویکسین کی درآمد بند ہونے کے باوجود پاکستان سے نمک تک برآمد کیا جارہا ہے جو 35 پیسے سیر میں جاتا ہے اور بھارت اسے بہت مہنگا بیچتا ہے۔ ویکسین دوسرے ممالک میں بھی بنتی ہے مثلاً چین، فرانس وغیرہ لیکن اس کی درآمد مہنگی پڑتی ہے۔ پاکستان نے ایٹم بم تو بنا لیا کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں بنا سکا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے خلائیں سر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بہتر ہے کہ وہ پہلے کتے کے کاٹے کا علاج کریں۔ انڈس اسپتال سے منسلک ایک این جی او کی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کورنگی میں کتوں کو ’’نا کتّا‘‘ بنانے کی مہم شروع کی تھی جس کا فائدہ ہوا۔ سندھ حکومت ویکسین فراہم نہیں کرسکتی تو کتا مار مہم ہی پر توجہ دے یا اس میں بھی جھگڑا ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔اصل مسئلہ ہے پورے صوبے میں آوارہ کتوں کی بہتات ۔ پہلے بلدیاتی ادارے ہر کچھ عرصے کے بعد کتوں کو مارنے کی مہم چلاتے تھے ۔ اس طرح سے شہری آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ایک حدتک محفوظ ہوجاتے تھے ۔ اب عجیب بات یہ ہوئی کہ کتوںکے حقوق کے نام پر عدالت نے ایک این جی او کی درخواست پر کتوں کے مارنے پر پابندی عاید کردی ہے ۔ اس پابندی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کتوں کے کاٹے سے انسان مرنے لگے ہیں ۔ یہ عجیب ملک ہے جہاں پر انسانوں کے تو کوئی حقوق نہیں ہیں ، البتہ کتوںکے حقوق ضرور ہیں اور ان حقوق کے بارے میں عدلیہ کے احکامات پر اتنا زبردست عملدرآمد ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔ اسی عدلیہ نے اور بھی کئی احکامات دے رکھے ہیں جنہیں حکومت اور انتظامیہ روز چٹکیوں میں اڑا دیتی ہے ۔ عدلیہ نے حکم دیا کہ رفاہی پلاٹ خالی کرالیے جائیں مگر آج بھی رفاہی پلاٹوں پر چائنا کٹنگ دھڑلے سے جاری ہے ۔ عدلیہ نے حکم دیا کہ رکشوں کے ٹو اسٹروک انجن فور اسٹروک انجن میں تبدیل کردیے جائیں مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی ۔ عدلیہ نے حکم دیا کہ انٹر سٹی بسوں کے اڈے فوری طور پر شہر سے باہر منتقل کردیے جائیں مگر کوئی سننے والا نہیں ۔ اسی طرح کے عدلیہ کے سیکڑوں احکامات ہیں جنہیں کوئی ماننے پر تیار نہیں ہے مگر کتوں سے ہر برس ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانوں کے نقصانات کے باوجود کوئی اس پر عدلیہ میں اپیل کرنے والا بھی نہیں ہے ۔ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو کل کلاں کوئی عدالت سے مچھروں اور مکھیوں کے بارے میں بھی حکم لے آئے گا اور عوام ڈینگی ، فلو ، ڈائیریا اور دیگر بیماریوں سے اسی طرح مرتے رہیں گے ۔ این جی اوز کا تو کام ہی یہی ہے کہ باہر سے فنڈ لیں اور ملک میں ابتری پھیلاتے رہیں ۔ یہ کام تو حکومت اور انتظامیہ کے سوچنے کا ہے کہ انسان زیادہ اہم ہیں یا کتے ۔ اگر حکومت کتے مار نہیں سکتی تو چینیوں ہی کو ٹھیکا دے دے کہ وہ سندھ سے مفت میں کتے پکڑیں اور اپنے ملک لے جا کر کھا جائیں ۔ اس طرح کم از کم شہری تو ان کتوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔