جاتی گرمیوں کا قصیدہ

96

یوں تو گرمی ہر سال قیامت ڈھاتی اور اپنا سابقہ ریکارڈ توڑتی ہے۔ اِس سال بھی اس ہوش رَبا موسم نے اپنی روایت برقرار رکھی۔ کئی انسانی جانیں گئیں، کتنے ہی لوگ قیامت کی گرمی میں پانی اور بجلی کے لیے تڑپتے رہے، سورج آگ اُگلتا رہا اور لوڈشیڈنگ اپنا رنگ دکھاتی رہی، رمضان کا مہینہ بھی گرمی کے جوبن میں آیا اور اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا۔ موسم کی اس سختی کے دوران قدرت نے بھی مخلوقِ خدا کو نوازنے میں بخل سے کام نہیں لیا اس نے اللہ کے بندوں کے لیے پھلوں کے ڈھیر لگادیے۔ گرمی شروع ہوئی تو سب سے پہلے لوکاٹ بازار میں آئے اس پھل کے کیا کہنے، ایک دانے میں دو موٹے موٹے بیج گودا مختصر لیکن ذائقے میں منفرد، نہ بہت میٹھا نہ کھٹا بس کھاتے جائیں اور اشتہا بڑھتی جائے۔ ابھی یہ پھل بازار سے رُخصت نہیں ہوپاتا کہ خربوزہ اور تربوز میدان میں آدھمکتا ہے۔ یہ دونوں پھل بھی رسیلے اور ذائقے میں لاجواب ہیں، عوام کی قوت خرید روز بروز کم ہوتی جارہی ہے لیکن خربوزہ اور تربوز ایسے پھل ہیں جو اب بھی عوام کی دسترس میں ہیں اور وہ ان سے لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے ممکن ہے کہ خربوزے کے کھیتوں میں یہ عمل ہوتا ہو لیکن اردو میں اسے محاورے کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے اور اس کا اطلاق انسانوں پر بلاتکلف کیا جاتا ہے۔ تربوز کو اب تول کر فروخت کیا جاتا ہے لیکن ہمارے بچپن میں اس کی ضخامت کے اعتبار سے اس کا کمول لگتا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ گرمی کا سب سے سستا اور فرحت بخش پھل ہے اور گرمی کے تلخ اثرات دور کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ گرمی ابھی جوبن پر ہوتی ہے تو آلو بخارا، آلوچا اور خوبانی بھی بازار میں آتے ہیں۔ آلو بخارے کے کیا کہنے! پکا ہوا پھل منہ میں رکھتے ہی رس گھل جاتا ہے، دل کو تقویت اور آنکھوں کو طراوت فراہم کرتا ہے، آلوچا بھی آلو بخارے کا ہمزاد ہے لیکن ذائقہ نہایت کھٹا۔ یہ بازار میں بالعموم دستیاب نہیں ہوتا البتہ گھر کے کچے صحن میں اس کا درخت خوب پھل دیتا ہے اور بچے اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ خوبانی بھی بہت طرحدار پھل ہے اس کی بالعموم دو اقسام بازار میں ملتی ہیں ایک سرخی مائل سفید یہ بڑی ہوتی ہے پوری خوبانی مشکل سے منہ میں آتی ہے اس کے بیج کو توڑو تو اس کی گری بادام کی مانند ذائقے دار ہوتی ہے اور دکاندار اسے اصلی بادام میں ملا کر بیچتے ہیں۔ دوسری قسم پیلی بانی کی ہے جو نسبتاً چھوٹی لیکن ذائقے میں زیادہ مزیدار۔ یہ پہاڑی علاقوں میں اتنی کثرت سے ہوتی ہے کہ اسے سنبھالنا دشوار ہوجاتا ہے۔ چناں چہ اسے خشک کرکے فروخت کیا جاتا ہے۔
گرمی کا ایک اور پھل فالسہ ہے جو اگرچہ جسامت میں چنے کے برابر ہے لیکن ذائقہ اتنا طرحدار کہ بس کھاتے جائیے اشتہا نہیں مٹے گی۔ ہم بچپن میں لاہور کے جس مضافاتی علاقے میں رہتے تھے اس سے متصل فالسے کے باغ تھے انہیں باغ نہیں کھیت کہنا مناسب ہوگا۔ ان کھیتوں میں سارا سال دھول اُڑتی رہتی لیکن جونہی فالسے کا موسم آتا ان کھیتوں کے رکھوالے آموجود ہوتے۔ پودوں کی توڑائی کی جاتی، پانی دیا جاتا پھر ان پودوں پر فالسے لگنے اور پکنے کا انتظار کیا جاتا، اس دوران آبادی کے لڑکوں کی بے چینی دیدنی ہوتی ان کا بس چلتا تو فالسے پکنے سے پہلے ہی سارا کھیت اُجاڑ دیتے لیکن رکھوالے بڑے سخت اور ظالم تھے وہ انہیں قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ جب فالسے پک کر تیار ہوجاتے تو دیہات سے عورتیں بلائی جاتیں جو دیہاڑی پر فالسے توڑنے کا کام کرتیں اور دو چار دن میں پورے کھیت کا صفایا کردیتیں۔ لڑکے ندیدوں کی طرح انہیں دیکھتے رہتے۔ جب کام مکمل ہوجاتا اور عورتیں اپنا معاوضہ وصول کرکے رخصت ہوجاتیں تو رکھوالے زمین پر پڑے ہوئے فالسے کو اٹھانے کے لیے لڑکوں کو اشارہ کرتے اور وہ کھیت پر ٹوٹ پڑتے۔ یہ ان کی خوشی کا دن ہوتا تھا وہ مٹی میں لتھڑے ہوئے فالسوں سے اپنی جھولی بھر لیتے تھے اور گھر میں انہیں دھو کر مزے اڑاتے تھے۔ ستر برس گزر گئے اِن فالسوں کا ذائقہ اب بھی زبان پر موجود ہے۔ برسوں بعد اس علاقے سے گزر ہوا تو وہاں فالسے کے کھیتوں کا نام و نشان نہ تھا اور ان کی جگہ ایک ہائوسنگ اسکیم اُبھر آئی تھی۔ فالسہ بھی اب بازار میں بہت کم نظر آتا ہے۔
گرمی کے پھلوں کی ایک قطار ابھی باقی ہے لیکن ہم انہیں نظر انداز کرتے ہوئے صرف دو پھلوں کا ذکر کریں گے۔ ایک آم دوسرا جامن۔ آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور پھلوں کی دنیا پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کررہا ہے۔ غالبؔ جیسا نک چڑھا شاعر بھی آم پر دل و جان سے فدا نظر آتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
بارے آموں کا کچھ بیاں ہوجائے
خامہ نخلِ رُطب فشاں ہوجائے
آم کا کون مردِ میداں ہے
ثمر و شاخ، گوٹے و چوگاں ہے
مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
آم کے آگے نیشکر کیا ہے
یہ واحد پھل ہے جسے لوگ تحفے میں بھیجتے اور اپنے تعلقات میں رس گھولتے ہیں۔ ایک زمانے میں اس سے سفارت کاری کا کام بھی لیا جاتا تھا اور اسے ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اخبار نویسوں کی بھی سب سے پسندیدہ پارٹی ’’مینگو پارٹی‘‘ ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ کوئی نہ کوئی اسامی تلاش کرلیتے ہیں بلکہ اسامی خود ان کی تلاش میں رہتی ہے۔ ہمارے زمانے میں تو یہی چلن تھا اب نجانے کیا حال ہے۔ آم کی گرمی دور کرنے کے لیے قدرت نے جامن کو پیدا کیا ہے اور اس کے کسیلے پن میں ایک خاص لطف اور ذائقہ رکھا ہے۔ جن پھلوں کا ذکر چھوٹ گیا ان کے نام لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آڑو، سیب، ناشپاتی، گرما، انگور، لیچی، کیلا، آسٹرابری، چیری، شہتوت۔ یہ سب گرمیوں کے تحفے ہیں۔ گرمی کا موسم جتنا سخت اور پُرآزمائش ہے قدرت نے اسی قدر اسے اپنی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔ اب گرمی رخصت ہورہی ہے، ستمبر کے وسط سے رُت ویسے بھی بدل جاتی ہے۔ جب جاڑا اپنے جاہ و جلال کے ساتھ آئے گا اور میدانی علاقوں میں ’’پالا‘‘ پڑے گا تو پھر یہی گرمیاں بُری طرح یاد آئیں گے۔ سچ کہا ہے قرآن نے یہ انسان بڑا ناشکرا اور جلد باز ہے۔