اٹلی اور فرانس میں تارکین وطن کی تقسیم پر اتفاق

58
روم: اطالوی وزیراعظم جوزپیے کونٹے اور فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں پریس کانفرنس کررہے ہیں
روم: اطالوی وزیراعظم جوزپیے کونٹے اور فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں پریس کانفرنس کررہے ہیں

روم (انٹرنیشنل ڈیسک) اٹلی اور فرانس نے ایک نئے نظام پر اتفاق کا کیا ہے، جس کے تحت مہاجرین اور تارکین وطن کو یورپی یونین کی مختلف رکن ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اٹلی اور فرانس کے درمیان اس نئے نظام کے حوالے سے اتفاق رائے ایک ایسے موقع پر ہوا ہے، جب یورپی وزرائے داخلہ آیندہ ہفتے مالٹا میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور اطالوی وزیراعظم جوزیپے کونٹے نے روم میں ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یورپی یونین کو ایک نیا نظام متعارف کرانا چاہیے، جس کے تحت رکن ممالک پہنچنے والے تارکین وطن کو خودکار طریقے سے یورپی یونین کی مختلف رکن ریاستوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ماکروں کا کہنا تھا کہ یورپی یونین نے مہاجرین کے بحران سے متاثرہ ممالک خصوصاً اٹلی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس ڈبلن معاہدے میں اصلاحات کرتے ہوئے ایک نئے لائحہ عمل کے لیے تیار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مہاجرین کی تقسیم کے ایک خودکار نظام پر متفق ہو سکتے ہیں، جو یورپی یونین کے لیے قابل عمل ہو۔ فرانس اور اٹلی کے درمیان تعلقات میں مہاجرین کے موضوع پر کشیدگی رہی ہے، تاہم لگتا ہے کہ دونوں ممالک اس تناؤ سے باہر نکل آئے ہیں۔