پاکستان سے کوئی مقبوضہ وادی لڑنے گیا تو کشمیریوں سے دشمنی ہوگی،وزیراعظم

34
پاکستان سے کوئی مقبوضہ وادی لڑنے گیا تو کشمیریوں سے دشمنی ہوگی،وزیراعظم
پاکستان سے کوئی مقبوضہ وادی لڑنے گیا تو کشمیریوں سے دشمنی ہوگی،وزیراعظم

طورخم/اسلام آباد( خبرایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت اگر کوئی پاکستانی مقبوضہ کشمیر لڑنے گیا تو یہ کشمیریوں سے دشمنی ہوگیکیونکہ بھارت کو پاکستان پر الزام تراشی کا موقع مل جائے گا۔ان کے بقول اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے پاک افغان بارڈر پر24 گھنٹے فعال رہنے والے طورخم ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی بدقسمتی ہے کہ انتہاپسند ہندوؤں نے اس پر قبضہ کرلیا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ہے،موجودہ صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارت بھرپور دباؤ میں ہے، جو کسر رہ گئی ہے وہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے پوری ہوجائے گی۔عمران خان نے گھوٹکی میں ہندو کمیونٹی پر حملوں کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات ان کے دورہ امریکا کو سبوتاژکرنے کی سازش ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں رکاوٹ آنا بدقسمتی ہے، افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا اس لیے امریکا اور طالبان کے مذاکرات کی بحالی کے لیے پورا زور لگائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پیر 23 ستمبر کو ان کی نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے جس میں وہ امریکا افغان ڈائیلاگ کی بحالی کی بات کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد افغان طالبان قیادت سے ان کی ملاقات طے تھی مگر بدقسمتی سے معاہدے سے ذرا پہلے مذاکرات ناکام ہوگئے۔اس موقع پر عمران خان نے اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں اپوزیشن نظریے کے بجائے ذاتی مفاد کی سیاست کرے وہاں جمہوریت نہیں چلتی، جن لوگوں نے اقتدار میں آکر فیکٹریاں بنائیں اور منی لانڈرنگ کی ان کا احتساب کیے بغیر ملک آگے نہیں چلے گا۔عمران خان کا کہنا تھاکہ چاہے جو مرضی ہوجائے اپوزیشن جتنا چاہے بلیک میل کر لے، کسی کو این آر او نہیں دیں گے، جن لوگوں نے اقتدار میں آکر فیکٹریاں بنائیں اور منی لانڈرنگ کی ان کا احتساب ضروری ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ، ملکی سیکورٹی ،دورہ سعودی عرب و امریکااور جنرل اسمبلی کے خطاب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سویڈن کے ہم منصب اسٹیفن لوف وِن کوٹیلی فون کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کی ۔ عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری بھارت پر انسانی حقوق معاہدوں کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کے لیے زور دے، مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور آبادیاتی ہیئت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
وزیراعظم