آمدن سے زاید اثاثے ،نیب نے پیپلزپارٹی کے ایک اور رہنما خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا

26
اسلام آباد: نیب اہلکار پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں
اسلام آباد: نیب اہلکار پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں

اسلام آباد(آن لائن +اے پی پی +مانیٹرنگ ڈیسک)قومی احتساب بیورو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔ سکھر اورراولپنڈی کی نیب ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خورشید شاہ کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ سے ان کی رہائش گاہ پرچھاپہ مارکرحراست میں لیا۔ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال کے ڈاکٹر غلام مصطفی نے خورشید شاہ کا طبی معائنہ کیا ۔جس میں انکشاف ہوا ہے کہ خورشید شاہ کی شوگر اور بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے جبکہ دل کی فی منٹ دھرکن بھی معمول سے زیادہ تھی ۔ ڈاکٹرز نے ان کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ دینے سے معذرت کی تاہم ڈاکٹرز کے خصوصی میڈیکل بورڈ سے ان کا طبی معائنہ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔نیب حکام کے مطابق خورشید شاہ کو آج (جمعرات) کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے ان کا راہداری ریمانڈ حاصل کر کے سکھر منتقل کیا جائے گا۔ نیب کے مطابق خورشید شاہ نے ہوٹل، پیٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے۔ انہوں نے کوآپریٹو سوسائٹی میں بنگلے کے لیے رفاہیپلاٹس غیر قانونی طور پر نام کرائے۔سابق اپوزیشن لیڈر کے خلاف بینک اکاؤنٹس اور بے نامی جائداد کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں جس کے مطابق خورشید شاہ نے اعجاز نامی شخص کے نام سے سکھر اور روہڑی میں 2جائدادیں بنا رکھی ہیں۔اس کے علاوہ خورشید شاہ نے لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائدادیں بنا رکھی ہیں۔ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین کے لیے کارڈیو اسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی۔ خورشید شاہ کی بے نامی جائداد میں ایک شخص عمر جان کا بھی اہم کردار ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ تمام الزامات ابتدائی تحقیقاتمیں ثابت ہوئے ہیں جب کہ ان سے مزید تفتیش بھی کی جائے گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل انہی معاملات پر نیب نے تفتیش کی تھی جس میں خورشید شاہ کو ان الزامات سے بری کردیا گیا تھا تاہم ڈی جی نیب سکھر نے اس معاملے کی از سر نو تحقیقات کے لیے نیب کے چیئرمین کو خط لکھا تھا۔نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اس ضمن میں ایگزیکٹیو بورڈ سے اجازت لینے کے بعد اس معاملے کی از سر نو تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔جس کے بعد نیب نے خورشید شاہ کے خلاف 7اگست سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انہیں متعدد بار تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔ نیب نے سید خورشید شاہ کو بدھ کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم انہوں نے نیب کو خط لکھ کر یہ کہہ کر پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی کہ وہ اسلام آباد میں ہیں اس لیے وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے۔اس صورتحال کے بارے میں نیب سکھر نے چیئرمین نیب کو آگاہ کیا جس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خورشید شاہ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ گرفتاری سے کچھ دیر پہلے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت مزید نہیں چل سکتی، لاک ڈاون سے متعلق پیپلز پارٹی عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرے گی،حکومت خود حالات ایسے پیدا کر رہی ہے، جو اتفاق نہیں، وہ بھی ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت جنگی حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی، سرحد پر جنگ کی صورتحال ہے، دشمن سر پر بیٹھا ہے ایک ہی جھٹکے میں ملک تباہ کر دے گا۔علاوہ ازیں خورشید شاہ کے ملازمین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ نیب افسران سمیت 20 سے 25 اہلکار گھر میں بلا اجازت داخل ہوئے۔ اس وقت خورشید شاہ کے برادر نسبتی اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ نیب اہلکاروں نے گھر میں موجود افراد کو اپنی جگہ سے ہلنے بھی نہیں دیا۔دریں اثناء جعلی اکائونٹس کیس میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر یوسف بلوچ اور سابق ڈی جی پارکس لیاقت علی خان کو بھی نیب نے گرفتارکرلیا۔ دونوں پرباغ ابن قاسم میں فلاحی پلاٹ غیر قانونی طور پر نام کروانے کا الزام ہے۔ یوسف بلوچ نے باغ ابن قاسم میں فلاحی پلاٹ اپنے نام کروانے کے بعد سابق صدرمملکت آصف زرداری کے ساتھ ڈنشا کو فروخت کیا تھا۔ سینیٹر یوسف بلوچ کو مبینہ طور پر پلاٹ کے بدلے سینیٹ کی رکنیت سے نوازا گیا تھا۔ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ نیب پیپلز پارٹی کو اس طرح کی گرفتاریوں سے ڈرا نہیں سکتا، خورشید شاہ صاف و شفاف اور اصول پسند سیاستدان ہیں،ان کی گرفتاری پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ پیپلز پارٹی کی سینئر نائب صدر شیری رحمن نے کہا کہ خورشید شاہ کو بطور رکن اسمبلی اسپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار کرنا غیر قانونی ہے، پیپلز پارٹی اس طرح کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتی ہے، نیب صرف پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو ہی گرفتار کر رہا ہے، پیپلز پارٹی اس طرح کے حربوں سے کبھی دبائو میں آئی ہے نہ آئے گی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سیّد مراد علی شاہ نے کہا کہ خورشید شاہ نے کبھی قانون سے بغاوت نہیں کی، انہیں گرفتار کرکے کیا تاثر دیا جا رہا ہے، خورشید شاہ نہ تو ملک سے فرار ہو رہے تھے نہ کبھی انہوں نے کسی انکوائری میں شامل ہونے سے انکار کیا، پھر بھی انہیں گرفتار کرکے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے مخالفین کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ یاد رہے کہ خورشید شاہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں قائد حزب اختلاف تھے اور انہوں ہی نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام بطور نیب چیئرمین تجویز کیا تھا جس کی منظوری اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دی تھی۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی ان دنوں نیب کی تحویل میں ہیں اور انہوں نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بطور چیئرمین نیب تعینات کرنے پر قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔
خورشید شاہ گرفتار