خورشید شاہ کو گرفتار کرکے غلط قدم اٹھایاگیا‘ وزیراعلیٰ سندھ

61

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا اور پیپلزپارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ خورشید شاہ کی گرفتاری کا اقدام درست نہیں‘ کیا وہ ملک سے بھاگ رہے تھے جو ایسا کیا گیا‘ خورشید شاہ نیب کے ساتھ دورانِ تحقیقات ہر ممکن تعاون کر رہے تھے مگر حکومت نے خورشید شاہ کو گرفتار کرکے انتہائی غلط قدم اٹھایا ہے ایسے وقت میں جب کشمیر کے معاملے پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جارہا تھا‘ خورشید شاہ کو گرفتار کرکے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ پی ٹی آئی کے وزرا کے خلاف بھی انکوائریاں جاری ہیں انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ حکومت سیاسی انتقامی کارروائیوں سے باز رہے۔ وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ یہ گرفتاری غیر قانونی ہے صرف الزامات پر گرفتاری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے‘ پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنان انتقامی گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ وزیر بلدیات سعید غنی، جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری اور کراچی ڈویژن کے تمام عہدیداروں نے خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نااہل حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوکر اپنے آپ کو نیب کی بے ساکھیوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہی ہے وہ یہ جان لے کہ وہ بہت جلد خود منہ کے بل گرے گی۔