ملک بھر میں 35 ہزار سے زائد مدارس کی رجسٹریشن آئندہ ماہ شروع ہوگی

34

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت آئندہ ماہ سے ملک بھر میں 35 ہزار سے زیادہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا آغازکرے گی، وزرات کے ساتھ رجسٹریشن کے بغیر کسی مدرسے کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تمام مدارس رجسٹریشن کے پابند ہیں۔ یہ بات بدھ کو جوائنٹ ایجوکیشن ایڈوائزر رفیق طاہر نے اے پی پی سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت برائے وفاقی تعلیم اس سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلیے مدارس کے ساتھ رابطے میں ہے۔ 4 صفحات پر مشتمل ایک فارم مدارس کی رجسٹریشن کیلیے تیار کرلیا گیا ہے۔ فارم کے ساتھ ضروری دستاویزات لگا کر اسے علاقائی دفاتر میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد میں پہلے ہی ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم قائم کردیا گیا ہے۔ وزرات برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے مدارس کی رجسٹریشن کیلیے ملک بھر میں 12 مراکز قائم کردیے ہیں جبکہ کراچی، سکھر، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، لورالائی، پشاور، کوہاٹ، مظفرآباد اور گلگت میں علاقائی ڈائریکٹوریٹ قائم کیے گئے ہیں۔ رفیق طاہر نے کہا تمام مدارس کو شیڈول بینکوں میں اپنے اکائونٹ کھولنا ہوں گے اور بینکوں کے ذریعے لین دین کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس قومی نصاب کونسل کے ذریعے فراہم کردہ یکساں نصاب اپنے متعلقہ اداروں جماعت اول تا پنجم کے طلبہ کو پڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو مدرسہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا اس کو بندکردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر مدرسے میں انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس کی تعلیم کیلیے 2 سے 3 اساتذہ تعینات کرے گی۔ رجسٹرڈ مدارس کو غیر ملکی طلبہ کو داخل کرنے کی اجازت ہوگی۔ حکومت نے قومی نصاب کونسل ،این سی سی، قائم کیاتھا، جس کے تحت کلاس اول تا پنجم کا نیا نصاب تیارکیاجارہا ہے جو مارچ 2020ء تک متعارف کروایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلیے کابینہ نے 2 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دیدی ہے جبکہ سال 2019-20ء کیلیے 580 ملین روپے مہیا کیے جائیں گے، انہوں نے کہا حکومت اندراج کے بعد مدرسوں کو مالی اور درس وتدریس سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کرے گی۔