کتے کے کاٹے سے بچے کی ہلاکت والدین کی لاپروائی سے ہوئی‘ سعید غنی

87

کرا چی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے سے 12 سالہ بچے کی ہلاکت اس کے والدین کی اپنی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ہوئی ‘ صوبے کے ہر سرکاری اسپتال میں کتے کے کاٹنے سے بچائو کی ویکسین موجود ہے۔ سعید غنی نے بتایا کہ کمشنر لاڑکانہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ سندھ حکومت کو جمع کرائی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عید الاضحی سے2 روز قبل یعنی وقوع سے 40 روز قبل کتے نیبچے کو ڈسٹرکٹ شکارپور کے گائوں مبارک ابڑو میں کاٹا لیکن اس کے بعد اس کے والدین وہاں کے کسی اسپتال میں اس کو علاج کی غرض سے لے کرنہیں گئے جس کے بعد بچے کو 17 ستمبر کو انتہائی تشویشناک حالت میں لاڑکانہ لایا گیا تھا جس وقت بچے کو اسپتال لایا گیا بچے کو شدید انفیکشن ہونے کے باعث کتے کے کاٹے سے بچائو کا انجکشن نہیں دیا جاسکتا تھا جس پر بچے کے والدین نے بچے کو کراچی لے جانے کی با ت کی تاہم انہیں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اس حالت میں اسے نہ لے جایا جائے لیکن بچے کے والدین کے اصرار پر اسے ایمبولینس کے ذریعے کراچی روانہ کیا جارہا تھا کہ اسی دوران بچے کا انتقال ہوا‘ بچے کو اگر 40 روز قبل اس کے والدین کتے کے کاٹے سے بچائوکا انجکشن لگوا لیتے تو اس کی جان بچائی جاسکتی تھی۔