عوام کے حقوق کے لیے قانون سازی سے متعلق تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں۔ ارکان سندھ اسمبلی

102

کراچی(اسٹاف رپورٹر)قومی ایکشن پلان،قانون کی حکمرانی، سندھ میں امن کے قیام کے لئے قانون سازی کی نگرانی کو مضبوط بنانے سے متعلق غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی از) کی جانب سے ارکان سندھ اسمبلی کی صلاحیتوں کی تعمیر اور تحقیقاتی معاونت کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،

تربیتی ورکشاپ میں میں صوبائی مشیر ویر جی کولہی،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم، نصرت سحر عباسی، حلیم عادل شیخ سمیت دیگر ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام کی حقوق کے لیے قانون سازی سے متعلق تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں۔ پارلیمینٹڑین کی زمہ د رای ہے کہ قانون سازی کے بعد اس پر عملدرآمد کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،

قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی سخت ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے لیے کام کرنا ہوگا۔ کراچی کے مقامی ہوٹل میں میں غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی جانب سے ارکان سندھ اسمبلی کی صلاحیتوں کی تعمیر اور تحقیقاتی معاونت کے لئے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،

تربیتی ورکشاپ میں صوبائی کمیونیکیشن اینڈ نیٹ ورکنگ آفیسر در شہوار چنا کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بہت سے قوانین پاس ہوئے ہیں۔تاہم ابھی تک ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ 2015میں نیشنل ایکشن پلان بنا اس کا مقصد دہشتگردی کے تمام قوانین کو مکمل طور عملدرآمد کر نا تھا۔ تاہم سندھ میں ویجیلینس کمیٹی بننی تھی جو کہ یونین کونسل کی سطح پر کام کرنا تھا،

جس میں ول چاکینگ، ممنوعہ لیٹر یچر، کالعدم تنظیموں کے لیے چندہ وصول کرنا سمیت دیگر معاملات شامل تھے۔ اس حوالے سے سندھ میں ویجیلینس کمیٹیاں نہیں بنی اور نہ ہی کوئی سروے کیا گیا۔ جس میں ہم نے ارکان سندھ اسمبلی کے لیے تربیتی سیشن رکھ رہیں ہیں۔ ہم تربیتی پروگرام کا انعقاد رکھیں گیں اور ارکان کو کس طرح کام کرنا ہے اور کیا اقدام اٹھانے ہیں ہم ان کی معاونت کریں گیں،

ایس ایس ڈی او ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کوثر عباس نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد قوم متحد ہوئی، تمام اسٹیک ہولڈرز نے اکٹھا ہو کر نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ قومی ایکشن کا مقصد دہشتگردی کے کے خاتمے کے لیے قوانین بنائے گئے۔قومی ایکشن پلان سے امن قائم ہوا۔ تاہم ان قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا ہے،

کوثر عباس نے کہا کہ ایس ایس ڈی او نے کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پنجاب سے شروع کیا۔ اب سندھ میں 30ارکان اسمبلی پر مشتمل گروپ کو کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے بنائے گئے قومی ایکشن پلان سے متعلق گزشتہ حکومتوں کے دوران بنائے گئے قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قوانین پر ریسرچ کی سہولت بھی میسر کرے گی،

اس کے علاوہ ممبران کے ساتھ مل کر اسسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز (ایس ڈی جیز) بالخصوص بچوں کے حقوق، کم عمری کی شادیاں، انسانی اسمگلنگ، یوتھ ڈویلپمنٹ، قانون کی حکمرانی، پولیس ریفارمز، شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق،پولیس ریفارمز، متعلق ریسرچ اور ٹریننگ کی سہولیات فراہم کریں گے،

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے صوبائی مشیر ویرجی کولہی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ملک کے مفاد کے لیے جو بھی قانون سازی ہوگی اس میں پیپلز پارٹی ساتھ دیگی،

پیپلز پارٹی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانے کے لیے بار بار کہتی رہی ہے۔قومی ا یکشن پلان کے تحت کراچی میں امن قائم ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ا یکشن پلان پر عملدرآمد کروانا ہماراا کام ہے۔ مگر یہ کام غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں،

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم کا کہناتھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ عدم برادشت کی وجہ سے ملک میں مسائل پیدا ہو رہیں ہیں۔دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہم سب ایک ہیں،

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کہاکہ قومی ایکشن پلان کے تحت بنائے گئے تمام قوانین پر عملدرآمد کیا جائے تو دہشتگردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے،عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے ملک ترقی کریگا۔

فکشنل لیگ کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانا پارلیمینڑین کا کام ہے۔ جو قانون بنائے ان کی زمہ د اری ہے کہ وہ ان قوانین پر عملدرآمد کروائے۔ دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق قوانین موجود ہیں۔عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ایس ایس ڈی او اگر دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق قوانین کی تربیت کو مکمل سپورٹ کریں گیں،

پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں مسائل پید ا ہو رہیں ہیں۔ ایس ایس ڈی او ہما را کام کر رہی ہے۔اس لیے شاید ہم قانو ن سازی سے متعلق کام نہیں کر رہے ہیں۔ ہمیں قانون سازی پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک دہشتگردی اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں خوشحالی ممکن نہیں ہے،سندھ میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے۔ سندھ اسمبلی میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے تمام قوانین لیے وہ ساتھ دیں گیں۔