حکومتی اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے قیام کے اعلان پر صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے

189

حکومتی اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے قیام کے اعلان پر صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور نے اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے قیام کے اعلان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر قدغن لگانے اور حکومتی ناقص پالیسوں کی پردہ پوشی کی ناکام کوشش قرار دیا ہے،

اپنے ایک بیان میں صدر پی ایف یو جے دستور محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل سہیل افضل نے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جانب سے دوسری مرتبہ اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ فیصلہ میڈیا پر پابندی کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے خلاف بھی سازش ہے،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کے زریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے اور عامل صحافیوں کو حراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے،

پی ایف یوجے کے صدر محمد نواز رضا نے کہا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے، میڈیا کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کے خلاف ہر سطح پر مذاحمت کریں گے تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا اور ہر سطح پر ایسی کوششوں کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی،

سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے دستور سہیل افضل خان نے کہا کہ پریس کونسل اور پیمرا جیسے اداروں کی موجودگی میں اسپیشل ٹربیونلز کی ضرورت نہیں ہے، جمہوری حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے لئے آمرانہ روش اختیار کرے،

وزیر اعظم عمران خان اسپیشل میڈیا ٹریبونلز پر تمام صحافی تنظیموں،پریس کلبز اور متعلقہ اداروں کو فی الفور اعتماد میں لیں،

سہیل افضل نے کہا ہے کہ پی ایف یو جے دستور تمام صحافی تنظیموں اور پورے ملک کے پریس کلبوں کے ساتھ ملکر میڈیا کو یرغمال بنانے اور آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے بنائے جانے والے اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے فیصلے کے خلاف لائحہ عمل تشکیل دیں گے اور حکومت وقت کو مجبور کریں گے وہ ان ٹریبونلز کے قیام کے فیصلے کو فی الفور واپس لیں۔

اسپیشل میڈیا ٹریبونلز کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سینیٹ کے سابق چئیرمین رضا ربانی نے میڈیا پر کسی قسم کی قدغن کو جمہوریت پر حملہ اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پر سنسرشپ مارشل لا ادوار سے بدتر ہے۔

رضاربانی کا کہنا تھا کہ میڈیا پر قدغن کے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر اس کی مذمت کریں گے۔ میڈیا کو پہلے ہی شدید سنسر شپ کا سامنا ہے اور میڈیا کو حکمرانوں کی جانب سے ڈرایا دھمکایا جا رہے ہیں۔

میڈیا کورٹس کے قیام کے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر سنسرشپ مارشل لا ادوار سے بدتر ہے، میڈیا کورٹس کے قیام کا مقصد میڈیا کو خوف زدہ کرکے دباؤ میں لانے کا ایک اور طریقہ ہے۔

رضاربانی نے واضح کیا کہ میڈیا کورٹس کے قیام کو مسترد کرتے ہیں، میڈیا تنازعات کے حل کے لیے پریس کونسل آف پاکستان، پیمرا کونسل برائے شکایات، ویج بورڈ عمل درآمد ٹریبیونل موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حوالے سے ناکامی کے بعد حکومت میڈیا کورٹس قائم کرنے جیسے اقدامات کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ میڈیا کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

قبل ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ’اسپیشل میڈیا ٹربیونل‘ بنائے گی جہاں بشمول حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کا احتساب ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹریبونل کو شکایت پر میرا، آپ کا اور صحافتی اداروں کے مالکان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے احتساب کا اختیار ہوگا‘۔فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ شکایات پیمرا کے ’شکایت کونسل‘ سے نکل کر میڈیا ٹریبونل میں منقتل ہوجائیں گی، میڈیا ٹریبونل نئی اور زیر التوا شکایات یا مقدمات کا بھی جائزہ لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسپیشل میڈیا ٹریبونل کی سرپرستی اعلیٰ عدلیہ کرے گی اور ٹریبونل 90 دن کے اندر شکایت کا ازالہ کرے گا‘۔

حکومت کے اس فیصلے کو صحافتی تنظیموں کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے بھی اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔