امجد عزیز ملک کی کتاب خیبر پختون خوا اور کرکٹ 70سال شائع ہو گئی

50

کراچی (سید وزیر علی قادری)پشاور سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ سینئر اسپورٹس جرنلسٹ امجد عزیز ملک کی کتاب خیبر پختون خوا اور کرکٹ70 سال شائع ہو گئی۔ پاکستان کے 72ویں یوم آزادی کے موقع پر شائع ہونے والی اس کتاب میں قیام پاکستان کے بعد سے2018 تک صوبے میں ہونے والی کرکٹ سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔کتاب میں خیبر پختون خوا کے ا ن کھلاڑیوں کی تفصیل درج ہے جنہوں نے ٹیسٹ ، ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کی نمائندگی کا گراں قدر اعزاز حاصل کیا۔ٹیسٹ کرکٹ میں اس صوبے سے حسیب احسن کا جو سفر شروع ہوا وہ شاہین شاہ آفریدی کی قومی ٹیم میں شمولیت تک جاری ہے۔صوبے کے حوالے سے منفرد اور تاریخٰ کتاب میں پشاور ڈویژن اور بعدازاں پشاور ریجن کی قائداعظم ٹرافی کرکٹ سمیت دیگر فرسٹ کلاس میچوں میں کارکردگی کی تفصیل بھی شامل ہے۔ صوبے سے تعلق رکھنے والے کرکٹ منتظمین، قومی ٹیم کے ہمراہ آفیشلز کی حیثیت سے جانے والی شخصیات، گراؤنڈز مین ، ا سکوررز، امپائرز اور صوبے کی کرکٹ تاریخ کے50 بہترین کرکٹرز سے متعلق خصوصی باب بھی کتاب کا حصہ ہیں۔خیبر پختون خوا اور کرکٹ 70 سال کی ایک اور انفرادیت قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پشاور میں ہونے والے بین الاقوامی میچوں کی تفصیل بھی ہے۔400 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں بڑی تعداد میں رنگین تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ امجد عزیز ملک کا شمار پاکستان کے سینئر ترین ا سپورٹس جرنلسٹس اورپاکستان کے صف اول کے صحافیوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے کھیلوں کی صحافت میں ملک وقوم اور صوبہ خیبر پختون خوا میں کھیلوں کی ترقی و فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔امجد عزیز ملک پاکستان کے واحد ا سپورٹس جرنلسٹ ہیں جنہوں نے اولمپکس،کامن ویلتھ گیمز، سیف گیمز، اسلامک گیمز،سپیشل اولمپکس ،انڈور ایشین گیمزاور پیرا لمپک گیمز کی کوریج کی۔انہوں نے268 انٹرنیشنل ہاکی میچوں کی کمنٹری کا اعزاز حاصل کیا اورمسلسل 2سال 1999 ء اور2000 ء میں ریڈیو پاکستان کے بہترین ہاکی کمنٹیٹر قرار پائے۔اپنے 36سالہ صحافتی کیرئیر میں انہوں نے 5000 سے زائد فیچر،مضامین اور کالم لکھے ہیں۔وہ خیبر پختون خوا کے پہلے صحافی ہیں جنہوں نے کھیلوں کے موضوعات پر 13کتابیں تحریر کیں۔300سے زیادہ مقالے50 سے زائد تصانیف اور کھیلوں کے رسائل بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔پہلی مرتبہ 2013 اور دوسری مرتبہ2017 انہیں اسپورٹس جرنلسٹس کی بین الاقوامی تنظیم ایسوسی ایشن انٹرنیشنل پریس ا سپورٹس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ پہلی مرتبہ انہیں روس کے شہر سوچی میں 68 اور دوسری مرتبہ جنوبی کوریا کے شہر پیانگ چنگ میں 76 ممالک کے ووٹ ملے۔ اسپورٹس جرنلزم میں شاندار خدمات پرانہیں پہلی مرتبہ2016 اور دوسری مرتبہ 2017 میں ایشیائی اسپورٹس جرنلسٹس کی نمائندہ تنظیم ایشین اسپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن کا بلا مقابلہ سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا۔یوں وہ 33 ایشیائی ممالک کے 9 ہزار سے زائد اسپورٹس جرنلسٹس کی بلا شرکت غیرے نمائندگی کرتے ہیں۔وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔امجد عزیز ملک ملک سعد سپورٹس ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے صوبے اور قبائلی علاقوں میں کم عمر کھلاڑیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت کھیلنے کا موقع فراہم کیا جس کی بدولت 16کھلاڑیوں نے قومی ٹیموں تک رسائی حاصل کی۔یہ ٹرسٹ صوبے اور قبائلی علاقوں میں بے مثال خدمات انجام دے رہا ہے جس کی مثال ملک میں کہیں اور نہیں ملتی۔4500 سے زیادہ کم عمر کھلاڑی 157 ا سپورٹس اکیڈمیوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جن سے مستقبل میں بڑی توقعات وابستہ ہیں۔انہیں کھیلوں ، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں خدمات کی انجام دہی پر ملک اور بیرون ملک میں 350سے زیادہ ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اسپورٹس کی عالمی و ملکی تنظیموں نے امجد عزیز ملک کی کاوش کو سراہا ہے۔