طالبات کے لیے پردے کا حکم واپس لینا قابل مذمت ہے، فرید پراچہ

83

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر ضیا بنگش کی طرف سے صوبے بھر میں طالبات کے لیے عبایا کے استعمال کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے اس کو واپس لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کو مدینے کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کے دعوے دار وں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی نہیں ہوسکی۔ انہوںنے کہاہے کہ ہر ی پور میں محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے ایک سرکلر کے ذریعے طالبات کے عبایا پہننے کو لازمی کیا گیاتھا ، یہ ایک قابل تحسین اور قابل تقلید اقدام تھا جس کی نہ صرف خیبر پختونخوا حکومت کو پابندی کرنی چاہیے تھی بلکہ وفاقی حکومت کو بھی اس حکم الٰہی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہاکہ حجاب حکم الٰہی ہے ۔ عورت کی عظمت کا الہامی اعتراف ہے ۔ ماں بیٹی کے لیے ایک محفوظ حصار ہے ، صوبہ خیبرپختونخوا میں اگر اس حکم پر عملدرآمد ہو جاتاہے تو یقیناً اس سے باقی صوبوں میں بھی اللہ کے احکامات پر عمل کی راہ ہموار ہوتی ۔