مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد،فیصلہ چیلنج کریں گے،وفاقی حکومت

61

اسلام آباد (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے مریم نواز کو (ن) لیگ کی نائب صدارت سے ہٹائے جانے کی درخواست مسترد کردی اور انہیں مشروط طور پر یہ عہدہ رکھنے کی اجازت دے دی ۔ وہ سزا ختم ہونے تک صدر ‘ قائم مقام صدر یا مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے منگل کو مختصر فیصلہ سنایا۔ مریم نواز کے پارٹی عہدہ کے خلاف تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری اور دیگر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جس پر فیصلہ پیر کو محفوظ کیا گیا جو منگل کو سنایا گیا۔الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ مریم نواز نائب صدارت کا عہدہ مشروط طور پر رکھ سکتی ہیں۔ اگر پارٹی صدر کا عہدہ خالی ہو تو مریم نواز اختیارات کا استعمال نہیں کر سکیں گی۔ وہ قائم مقام صدر بھی نہیں بن سکتیں۔ (ن) لیگ کی نائب صدارت کا عہدہ بظاہر غیر فعال ہے اس لیے یہ عہدہ رکھا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے وکلا ظفر اللہ خان اور دیگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے پارٹی نائب صدر کا عہدہ رکھنے کے خلاف پٹیشن خارج کردی۔ پارٹی منشور کے مطابق مریم نواز نائب صدر رہیں گی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس پابندی کو ختم کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت مریم نوازسے متعلق الیکشن کمیشن کافیصلہ چیلنج کرے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا واضح فیصلہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا، اس فیصلے میں مانا گیا ہے کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں، اور وہ کسی جلسے جلوس اور سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، فیصلے میں نائب صدر کے عہدے کو غیرفعال کہا گیا ہے۔علاوہ ازیں پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکا بخاری نے مریم نواز کے جماعتی عہدے سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو عدالت عظمیٰکے فیصلوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے کیا ہے کہ ہم اس فیصلے کے خلاف مجاز فورم سے رجوع کا مکمل حق رکھتے ہیں۔مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰنے ذوالفقار بھٹہ کیس PLD 2018 sc 370 میں اس حوالے سے واضح احکامات صادر کیے ہیں۔ذوالفقار بھٹہ کا کیس بینظیر بھٹو کیسPLD 1988 sc 416سے کسی طور متصادم نہیں ہے۔