پی ٹی آئی پیپلزپارٹی اور متحدہ نمائشی احتجاج کرکے بیوقوف نہیں بناسکتے،حافظ نعیم

104
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ ہائیکورٹ میں کے الیکٹرک کیخلاف دائر پٹیشن کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ ہائیکورٹ میں کے الیکٹرک کیخلاف دائر پٹیشن کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نیپرا کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے باعث حالیہ بارشوں میں 19افراد کی کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں ، کرنٹ سے ہلاکتوں پر کے الیکٹرک کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے وقت طلب کرنا تاخیری حربے ہیں ،جو کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے ، جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ ،مسلسل احتجاج اور شاہراہوںپر پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بن کر لڑا ہے ، ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ ، عثمان فاروق ایڈووکیٹ ،کے الیکٹرک کمپلینٹ سیل کے نگران عمران شاہد ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،قیصر جمیل ایڈووکیٹ اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایف آئی آر میں کے الیکٹرک کے مالکان و اعلیٰ افسران کو نامزد کیے جانے کے باوجود انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہاہے ؟،عام حالات میں کوئی بھی فرد اگر کسی کے خلاف ایف آئی آر کٹواتا ہے ،تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے فوراً گرفتار کرلیتے ہیں ، لیکن کے الیکٹرک کے عہدیداران و افسران کو گرفتار کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں کے الیکٹرک کے 26لاکھ صارفین ہے ، کے الیکٹرک کی بنیادی ذمے داری ہے کہ ٹیکنیکل بنیاد پر بجلی سپلائی کا ترسیلی نظام محفوظ بنائے ،بارشوں میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو 5کروڑ فی فرد معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے الیکٹرک کے خلاف نمائشی احتجاج کرکے عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے ،حکمران عملی اقدامات کریں،کے الیکٹرک کو وفاق اور صوبے کی پشت پناہی حاصل ہے ، اسی وجہ سے کے الیکٹرک اربوں کھربوں کی کرپشن کر چکا ہے ، کراچی میں تمام پارٹیاں کچرا سیاست کر رہی ہیں ، لیکن کے الیکٹرک کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتا ، کے الیکٹرک کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے اوراُسے قومی تحویل میں لیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بجلی کی فراہمی حکومتی ذمے داری ہے ، پورے ملک میں صرف کے الیکٹرک کو ہی پرائیوٹائز کیا گیا ہے ، کے الیکٹرک واحد ادارہ ہے جس کو سبسڈی بھی دی جاتی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صدر اور گورنر بھی کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت کے خلاف نوٹس نہیں لے رہے جبکہ وزیر اعظم کے الیکٹرک کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے کے بجائے اپنے دوست عارف نقوی کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں ، پی ٹی آئی کے وزیر علی زیدی نے کراچی کا کچرے صاف کرنے کی مہم کے نام پر کے الیکٹرک امیج کو بہتر بنانے کے لیے 2کروڑ روپے لیے، ان کی مہم کراچی کی صفائی سے زیادہ کے الیکٹرک کو عوام دوست ادارہ ظاہر کرنا تھا ۔