مقبوضہ کشمیر کرفیو کا 44 واں روز قابض فوج نے کئی مارکیٹیں نذر آتش کردیں،کالے قانون کی استعمال تشویشناک ہے،ایمنسٹی

66

سری نگر (اے پی پی+مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میںکرفیو اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کا سلسلہ مسلسل 44ویں روز بھی جاری رہا اور تمام دکانیںاور کاروباری مراکز بند جبکہ تعلیمی ادارے طلبہ سے خالی رہے۔ قابض فوج نے متعدد مارکیٹیں نذر آتش کردیں۔ ایمنسٹی انڈیا نے کہا ہے کہ کشمیر میںقانون کا ظالمانہ استعمال بھارتی حکومت کی بے ایمانی ظاہر کرتا ہے، فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تفصیلات کے مطاب مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ سری نگر کے چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے۔ کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات، قابض بھارتی فورسز نے سری نگر کے جہانگیر چوک، بخشی سٹیڈیم، سبزی منڈی چوک میں بلٹ پروف بنکرز بھی قائم کر لیے۔مسلسل پابندیوں سے مقبوضہ وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، بچے بوڑھے اور بیمار کرب کی کیفیت میں ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی دھمکیاں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش سے نہیں روک سکتیں،ایمنسٹی چیف کا کہنا ہے کشمیر سے متعلق اظہار تشویش پر خاموش کرانے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی، سیکرٹری جنرل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ایمنسٹی کو کچلنے کی بدترین کوشش کی۔موجودہ فوجی محاصرے کے سبب وادی کشمیر کے عوام کو خوراک ، دودھ اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامناہے۔ اس صورتحال میں مقامی اخبارات کی اشاعت میں بھی مشکلات ہیں جبکہ وہ اپنے آن لائن ایڈیشن بھی اپ ڈیٹ نہیں کرپارہے ہیں۔ علاوہ ازیںعالمی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کیمپوں سے رات کے دوران اکثر لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیںکیونکہ بھارتی فوجی مختلف دیہات سے جن نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہیں، ان کو رات کے دوران کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بناکردیگر نوجوانوں کے لیے نشان عبرت بناتے ہیں۔