پاکستان اہداف پورے کررہا ہے،فنڈ مشن نومبر تک آئیگا،ڈائریکٹر آئی ایم ایف

43

اسلام آباد(صباح نیوز) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف )کے ڈائریکٹر وسطی ایشیا جیہاد آزور نے کہا ہے کہ پاکستان کے ریونیو کی شرح نمو بہت حوصلہ افزا ہے، اس میں 30فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا نہیں حکومت کا پروگرام ہے جس کے تحت 6 ارب ڈالر دینے ہیں تاہم مکمل پروگرام 36 ارب ڈالر کا ہے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر وسطی ایشیا جیہاد آزور نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی موجود تھے۔ جیہاد آرزو نے کہا کہ پاکستان کاپروگرام درست سمت میں بڑھ رہا ہے،اہداف پر غور کیا ، فنڈ مشن اکتوبر یا نومبر میں آئے گا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی حمایت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیاہے، عمومی طور پر اصلاحات پروگرام پر عملدرآمد مشکل ہوتا ہے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے کہا کہ کراچی کا بھی دورہ کروں گا جہاں اسٹیٹ بینک حکام اور کاروباری لوگوں سے ملاقات ہوگی، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں سماجی شعبے کی بہتری چاہتا ہے،خطے میں گزشتہ چند دنوں میں کئی انوکھے واقعات ہوئے ہیں، ہم تیل کی قیمت میں اضافہ کے اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک پر کیا اثرات ہوں گے اس کو دیکھنا ہو گا۔جیہاد آزور نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ پروگرام کو ابھی بہت کم مدت ہوئی ہے۔ حکومت ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے مطابق بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، پروگرام کے اہداف میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی، عدم توازن کو کم کرنے کے لیے اقدامات لیے گئے ہیں۔عالمی مالیاتی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ وزیر اعظم نے پروگرام پر عملدرآمد پر یقین دہانی کروائی ہے جسے معاشی استحکام آئے گا۔ جیہاد آزور نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، توانائی سیکٹر کو بھی مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے، برآمدات بڑھانے کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی ضرورت ہے جس کے لیے گردشی قرض کو ختم کرنا ہوگا، اداروں میں اصلاحات اور انہیں خود مختاری کی ضرورت ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کے نمائندے نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ سب کو اٹھانا چاہیے،پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام ایک قسط تک محدود رکھنا نہیں چاہتے، پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام اہداف ازسرنو مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔