شہباز شریف کی جیل میں بھائی سے ملاقات۔ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،نوازشریف

65

لاہور(نمائندہ جسارت)پاکستانمسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہبازشریف نے اپنے بڑے بھائی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں خصوصی ملاقات کی، بعد ازاں (ن) لیگ کے سینئر ر ہنما خواجہ آصف اور احسن اقبال بھی ملاقات میں شامل ہوگئے۔ اس موقع پرشہباز شریف نے نواز شریف کو سر براہ جے یو آ ئی ( ف)مولانا فضل الرحمن سے ملاقات اور دیگر اہم امور سے متعلق صورت حال سے آگاہ کیا اورسیاسی امور پر ان سے ہدایات لیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی تجویز پر نوازشریف سے مشاورت کی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نوازشریف نے دھرنے کے معاملے پر جلد بازی میں فیصلہ نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم موڑ پر پارٹی رہنمائوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ذرائع کے مطابق ڈیل کی افواہوں پر نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس وقت ڈیل نہ کی جب ان کی اہلیہ بستر مرگ پر تھیں،اب کیسے کرسکتے ہیں؟نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے میں سرخرو ہوں گے۔ شہباز شریف نے مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت تمام خاندان کے دیگر افراد کے مقد مات کے حوالے سے بھی نواز شریف کو آگاہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات حکومت کی خصوصی اجازت سے ہوئی ہے،اس حوالے سے اسے موجودہ صورت حال میں کافی اہم قراردیا جارہا ہے۔ شہباز شریف نے نواز شریف کے بعد اپنے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے بھی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران شریف خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے ۔واضح رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں جمعرات کا دن نواز شریف سے ملاقات کے لیے مختص ہے اور ان سے صرف اہل خانہ ہی ملاقات کرسکتے ہیں،کسی دوسرے پارٹی رہنما کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں تاہم محکمہ داخلہ پنجاب نے نواز شریف اور حمزہ شہبازسے ملاقات کے لیے شہباز شریف کو خصوصی اجازت دی ۔
نوازشریف ملاقات