بدیلی کمیشن پاس اساتذہ کا نوکریوں پر عدم تعیناتی کیخلاف احتجاج کا اعلان

74

بدین (نمائندہ جسارت) محکمہ تعلیم سندھ میں کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے چار سو سے زائد اقرا یونیورسٹی کمیشن پاس اساتذہ کو 6 سال گزرجانے کے باوجود مستقل نہیں کیا گیا اور اس ضمن میں سندھ اسمبلی سے پاس کیے جانے والے بلوں پربھی عمل درآمدنہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے سندھ بھر میں تعینات اقرا یونیورسٹی کمیشن پاس ایچ ایس ٹی،جے ایس ٹی اورپی ایس ٹی کنٹریکٹ اساتذہ میں شدید تشویش کی لہردوڑ گئی ہے اور اقرا یونیورسٹی کمیشن پاس اساتذہ نے فوری طورپرمستقل نہ کیے جانے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے اور احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اقرا یونیورسٹی کمیشن پاس کنٹریکٹ اساتذہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرٹ اورکئی بار کی اسکروٹنی کے بعد بھرتی ہوئے ہیں مگرچھے سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا جارہا جبکہ این ٹی ایس اورسندھ یونیورسٹی کے توسط سے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کردیا گیا ہے۔ مستقلی میں تاخیرکے باعث اقرا یونیورسٹی کنٹریکٹ اساتذہ کی سینیارٹی متاثرہورہی ہے اور انہیں ریٹائر منٹ کے وقت بھی مالی طورپرنقصان ہوگا۔ اساتذہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے دو دفعہ بل پاس ہونے کے باوجود اقرا یونیورسٹی پاس کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل نہیں کیا جارہا، کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے سے ان پر ہر وقت ملازمت ختم ہونے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے جس کی وجہ سے اقرا یونیورسٹی اساتذہ شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر تعلیم مہتاب ڈہر نے اقرا یونیورسٹی اساتذہ کو مستقل کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ سندھ ہائی کورٹ سکھربینچ بھی اقرا یونیورسٹی اساتذہ کو مستقل کرنے کے احکامات جاری کرچکی ہے مگر نہ تو سابق صوبائی وزیر تعلیم اور نہ ہی سندھ ہائی کورٹ سکھر کے احکامات پر عمل کیا گیا ہے۔ اقرا یونیورسٹی کنٹریکٹ اساتذہ نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری تعلیم سے اپیل کی ہے کہ گزشتہ چھے سال سے کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے اقرا یونیورسٹی اساتذہ کو فوری طور پر مستقل کیا جائے تاکہ ان اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی ختم ہوسکے۔ اساتذہ نے اعلان کیا ہے کہ اقرا یونیورسٹی کمیشن پاس کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل نہ کیا گیا تو وہ توہین عدالت کی پٹیشن داخل کرانے کے علاوہ احتجاجی تحریک بھی چلائیں گے۔