نیا یوٹرن پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں عبایا لازمی کرنے کا حکم چند گھنٹو میں واپس

63

پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) مدینے جیسی ریاست بنانے کے دعویدار حکمرانوں نے نامعلوم دبائو پر خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے پردہ لازمی قرار دینے کا چند گھنٹوں بعد نوٹس لے لیا اور محکمہ تعلیم کو فوری طور پر نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سرکاری اسکولوں میں طالبات پر برقع پہننے کو لازمی قرار دینے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ طالبات کے لازمی برقع پہننے کا نوٹیفکیشن واپس لے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل نے حکومت سے اجازت لیے بغیر نوٹیفکیشن جاری کیا۔اس حوالے سے سیکرٹری تعلیم خیبر پختونخوا ارشد خان نے نجی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس کے تحت چادر یا برقع لینا لازمی ہو۔ ارشد خان نے مزید بتایا کہ کسی افسر کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ حکومتی پالیسی کے بغیر اپنے طور فیصلہ کرے، آج نوٹیفکیشن واپس لے لیں گے۔اس حوالے سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سرکاری اسکولز میں بچیوں کے لیے عبایا پہننے کو لازمی قرار نہیں دیا، ڈی ای او ہری پور نے والدین کی مرضی سے عبایا پہننے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اسکولوں میں عبایا پہننے کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، ضلع ہری پور میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے وضاحت مانگی گئی ہے، متعلقہ ڈی ای او نے یہ فیصلہ بچوں کے والدین کی مشاورت سے کیا۔ واضح رہے کہ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے پشاورمیں سرکاری اسکولوںکی طالبات کے لیے عبایا،گائون پہننا لازمی قراردیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔ ڈی ای او(زنانہ)پشاورکی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں خواتین کے سرکاری اسکولوں کی طالبات کے لیے عبایا،گائون یاچادر پہننالازمی قراردے دیاگیا تھا، اس سلسلے میں پرائمری،مڈل ،ہائی و ہائر سیکنڈری اسکولوں کی خواتین سربراہان کوحکم نامے پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی تھی ۔ نوٹیفکیشن میں پردہ لازمی قراردینے کامقصد طالبات کا تحفظ اور کسی ناخوشگوارغیر اخلاقی سلوک سے محفوظ رکھنا قرارد یا گیا تھا ۔دریں اثنا نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر ضیابنگش نے کہا کہ ہری پور میں طالبات کے عبایا پہننے کو لازمی قرار دینے کے بعد اب صوبے بھر میں اس فیصلے پر عملدرآمد کرائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں گزشتہ ہفتے محکمہ ایجوکیشن کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں اسکول کی طالبات کے لیے عبایا کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔سرکلر میں کہا گیاہے کہ لڑکیاں کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے بچنے کے لیے عبایا پہنیں، چادر یا گاؤن پہنیں، بچیوں سے چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر یہ اقدام ضروری تھا۔ ضیا بنگش نے کہا کہ اس سرکلر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، محکمہ ایجوکیشن میں سب کو پورے اختیارات دیے ہوئے ہیں جو بہتری لاسکتے ہیں ان کو کام کرنے کی اجازت ہے، کچھ اضلاع میں ہراسانی کے واقعات ہوئے جس پر ڈی اوز کو کہا تھا اس پر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے اسکولوں کے اندر کوئی پابندی نہیں، یہ فیصلہ اسکول سے گھر سے اور گھر سے اسکول تک کے لیے کیا تاکہ طالبات جب گھر سے اسکول تک آئیں تو مکمل پردے میں ہوں ۔صوبائی مشیر کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے صوبے اور ملک کی روایات ہیں ہم اس کو بھی دیکھ رہے ہیں، اپنے کلچر اور دین کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، اب اس فیصلے کو صوبے بھر میں عملدرآمد کرنے جارہے ہیں، ڈی او کے اس فیصلے کو سراہتا ہوں، ہم نے جو فیصلے کیے اس پر پہلا قدم ہری پور کی ڈی او نے اٹھایا، باقی ڈی اوز کو بھی کہا ہے کہ اس کو باقی صوبے میں بھی پھیلائیں۔ ضیا بنگش نے مزید کہا کہ ہم جو فیصلے کرتے ہیں عوام اور والدین کے ذہنی سکون اور بچوں کے تحفظ کے لیے کرتے ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں، ایسا نہیں ہے کہ صوبے میں ایسے واقعات ہیں لیکن اگر کہیں ہوئے تو ہماری ذمے داری ہے کہ اسے دیکھیں یہ کیوں ہوئے، ہماری ذمے داری ہے کہ اس پر فیصلے کریں، اسکولوں کو ہم نے مکمل تحفظ دیا ہے لیکن جب اسکول سے طالبات گھر جاتی ہیں تو اس دوران جو واقعات ہوتے ہیں اس کی طرف ایک قدم اٹھالیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات ختم کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، طالبات کے اسکولوں کے لیے پولیس کو کہا ہے کہ چھٹی کے وقت ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ ایسے عناصر کو دیکھیں اور اب یہ صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، حکومت کی ہرچیز پر نظر ہے، ہم ہر طریقے سے اپنے بچیوں کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔
نیا یوٹرن