اسرائیلی انتخابات پر مغربی کنارا اور غزہ مکمل سیل

393
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مغربی کنارے میں نئی یہودی بستی کا نقشہ دکھا رہے ہیں‘ قابض فوج نے ناکابندی کررکھی ہے
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مغربی کنارے میں نئی یہودی بستی کا نقشہ دکھا رہے ہیں‘ قابض فوج نے ناکابندی کررکھی ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض صہیونی ریاست نے اپنے عام انتخابات کے موقع پر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر سیل کردیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج منگل کے روز اسرائیلی انتخابات میں ووٹنگ کے عمل سے ایک روز قبل صہیونی فوج نے اعلان کیا کہ منگل کے روز دونوں علاقوں کو کلی طور پر بند رکھا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امن وامان برقرار رکھنے اور سیاسی صورت حال کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مغربی کنارے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا، جب کہ غزہ کی گزرگاہیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ اس بندش کا اطلاق گزشتہ نصف شب کو ہوا، جو آج نصف شب کے بعد اٹھالیا جائے گا۔ اسرائیل اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کا عمل صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔ اس بندش کے باعث مغربی کنارے کے لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ جائیں گے، جب کہ غزہ کو اشیائے ضرورت کی کسی بھی قسم کی ترسیل روک جائے گی۔اس دوران فلسطینی بچے اسکول جاسکیں گے نہ نوجوان اپنے تعلیمی اداروں کا رخ کرسکیں گے، جب کہ ملازمت اور مزدوری پیشہ افراد بھی گھروں سے نہیں نکل سکیں گے۔ فلسطینی علاقوں میں کرفیو کی اس کیفیت کو قائم رکھنے کے لیے قابض فوج نے اضافی نفری تعینات کی ہے، جب کہ جگہ جگہ ناکابندی کرکے چیک پوسٹیں قائم کی ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں آج ہونے والے عام انتخابات میں 5 بار وزیراعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو اور سابق آرمی چیف بینی گانتز مدمقابل ہوں گے۔ رواں سال اسرائیل میں یہ دوسری بار انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل 9 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کی قدامت پسند لیکوڈ پارٹی اور بینی گانتز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی 35، 35 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔ انتخابات کے بعد نیتن یاہو اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے تھے، لیکن وہ اپنے سابق وزیر دفاع آوی گیڈور لیبرمین کی حمایت کے حصول میں ناکام رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لیبر مین گزشتہ انتخابات کی نسبت اس بار سیکولر رائے دہندگان کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔