ایران جوہری معاہدے کی چوتھی خلاف ورزی کیلیے تیار

72

 

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک ) ایران نے جوہری معاہدے کی چوتھی بار خلاف ورزی کرنے کے لیے تیاریاں شروع کردیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے مطابق جوہری معاہدے کی پاسداری کم کرنے کے حوالے سے تیسرے اقدام پر عمل جاری ہے اور چوتھا قدم اٹھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ جمعہ کے روز فرانس، جرمنی اور برطانیہ اور یورپی یونین کی وزیر خارجہ نے تہران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ تاہم ایران نے مشترکہ بیان کو نظر انداز کردیا اور یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز کو ترقی دینے کا سلسلہ موقوف نہیں کیا۔ دوسری جانب عباس موسوی نے کہا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات ہمارے ایجنڈے میں شامل تھی اور نہ اب ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا تھا کہ دونوں رہنما ؤں کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہوسکتی ہے۔ تہران حکومت کے ترجمان علی ربیع کے مطابق ہم اسی وقت ملاقاتیں کرتے ہیں جب یقین ہوکہ ہمارے عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں ختم کی جانی چاہییں اور امریکا کو ایرانی قوم کا احترام کرنا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس کی مشیر کیلین کونوے نے اتوار کے روز انٹرویو میں سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد بھی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا تھا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ارامکو کی تیل تنصیبات پر حملوں کے باعث ملاقات میں حائل رکاوٹیں دور نہیں ہوپائیں گی۔