شام پر سہ فریقی سربراہ اجلاس، دھماکے میں12 شہید

132
انقرہ: تُرک صدر اردوان اپنے روسی اور ایرانی ہم منصبوں پیوٹن اور روحانی کا استقبال کررہے ہیں
انقرہ: تُرک صدر اردوان اپنے روسی اور ایرانی ہم منصبوں پیوٹن اور روحانی کا استقبال کررہے ہیں

 

انقرہ/ دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایرانی صدر حسن روحانی اور تُرک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات ہوئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز ہونے والی اس سربراہ ملاقات شام کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ترک ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں خاص طور پر ادلب کی صورتحال موضوع بحث رہی، کیوں کہ اگر ادلب میں اسدی فوج کی نئی کارروائی ہوئی تو ہزاروں شامی باشندے ترکی کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس ملاقات میں مہاجرین کی شام میں رضاکارانہ واپسی پر بھی غور کیا گیا۔ ترک صدر ادلب کے تنازع کے ایک طویل المدتی حل کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ روسی اور ایرانی صدور کے ساتھ یہ معاملہ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ رواں برس اپریل سے اسدی فوج نے ادلب میں مزاحمت کاروں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس کارروائی میں اسد حکومت کی فوج کو روسی جنگی طیاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ اسدی فوج کے حملوں کا اصل ہدف شامی مزاحمتی گروہ ہیں۔ اسدی فوج مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جو ادلب کے علاوہ حلب، حما اور لاذقیہ صوبوں میں بھی موجود ہیں۔ ادلب کا تنازع حل کرنے کے لیے روس اور ترکی کے درمیان گزشتہ برس ستمبر میں بھی ایک سمجھوتا طے پایا تھا، جو اب تک ناکام ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب تُرک سرحد کے قریب واقع شامی قصبے چوبان بے میں اسپتال کے قریب ایک کار بم دھماکے میں 12 شہری شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ بم دھماکا اسپتال کے قریب ایک آٹو پارک میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسپتال اور قریب واقع مکانات کو شدید نقصان پہنچا، جب کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔