حکمران افغانوں سے غیرت حمیت اور استقامیت کا درس لیں ،لیاقت بلوچ

97

راولپنڈی /لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ کشمیریوں کو بولنے دو ، کشمیریوں کا درد سنو اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دو۔ عالمی برادری کو مجرمانہ بے حسی ختم کرنا ہوگی ۔ کشمیر پر سودے بازی کرنے والے اپنی قبر خود کھودیں گے ۔ حکمران افغانوں سے غیرت ، حمیت ، استقامت کا درس لیں ، جرأت سے اقدام کریں ۔ آج کے اہل قلم کو علامہ اقبال سے رہنمائی لینی چاہیے، ایک زمانے میں علامہ اقبال کو بھی کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا گیاتھا، انہوں نے کشمیر کے ساتھ محبت کا حق ادا کیااور اس حوالے سے بہت کچھ لکھا۔ کشمیری 43 دنوں سے بھارتی کرفیو ، ظلم و جبر ، جبری گمشدگی اور نسل کشی کا شکار ہیں ۔بھارت کے لیے ممکن نہیں کہ یہ ظلم جاری رکھ سکے ۔ بھارت 100 دن بھی کرفیو مسلط رکھ لے ، کشمیری اپنی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ کشمیریوں کا حوصلہ اور عزم ہمالیہ سے بھی بلند ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی ؒ بلڈنگ میں ادبی تنظیم خوشبو کے زیر اہتمام اہل قلم کانفرنس بعنوان’’ تڑپتی شہ رگ اور قلمکار ‘‘کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کی صدارت ادبی تنظیم خوشبو کے صدر ملک محمداعظم نے کی جبکہ اس موقع پر سینئر صحافی حاجی محمد نواز رضا ، شاعر ، ادیب اور مصنف جبار مرزا ، کالم نگار راج بیگ ،نامور شاعر،کالم نگار اور مصنف احمد حاطب صدیقی ،ممتاز ادیب افتخار کھوکر ،سینئر کالم نگارعابد ملک، معروف لکھاری ریاض عادل ،شاعر،کالم نگار اور مصنف پروفیسر جمیل منہاس ،صدر تحریک نفاذ اردو عطا الرحمن چوہان ،سینئر صحافی اور کالم نگار میاں منیر احمد،کالم نگار میرافسر خان ،شاعر الطاف رسول ،یوتھ اسمبلی پاکستان کے حماد ملک ،امیر جماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ راولپنڈی سید عارف شیرازی و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ادبی تنظیم خوشبو کے منتظمین کو اہل قلم کانفرنس پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خوشبو کے عہدیداران نے وقت کی آواز کو پہچانا اور مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اہل قلم کو اکٹھا کیا۔ایک زمانے میں علامہ اقبال کو بھی کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا گیاتھا۔انہوں نے کشمیر کے ساتھ محبت کا حق ادا کیااور اس حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے۔آج کے اہل قلم کو علامہ اقبال سے رہنمائی لینی چاہیے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ بھارتی ظلم و جبر کے حوالے سے اقوام متحدہ ،عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔مسئلے کی سنگینی کے پیش نظرجوکردار انہیں ادا کرنا چاہیے تھا وہ کہیں نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ میںآتے ہیں توروٹھی ہوئی عورت کی طرح کسی سے ہاتھ ملاتے ہیں نہ کسی اپوزیشن کے رکن سے ملنا گوارا کرتے ہیں۔مظفر آبادکے جلسے میں اپوزیشن کاکوئی لیڈربھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومتی اقتصادی ٹیم معاشی بہتری کا راگ آلاپ رہی ہے ، یہ صریحاً دھوکا ہے ۔ عوام تو اس اذیت سے گزر رہے ہیں کہ مہنگائی ، بے روزگاری ، یوٹیلیٹی بلز میں ہوشربا اضافہ ، پیداواری لاگت اور شرح سود میں اضافہ ، روپے کی قدرمیں کمی ، غریب اور سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ معاشی زوال منہ بولتی تصویر ہے اور سماج بری طرح متاثر ہورہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے تحت ملک بھر میں یکجہتی کشمیر مارچ جاری ہیں ۔ کوئٹہ کے کامیاب کشمیر مارچ کے بعد 20 ستمبر کو سرگودھا ، 22 کو بھمبر ، 27 کو مظفرآباد اور 6اکتوبر کو لاہور میں عظیم الشان کشمیر مارچ ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم اقوام متحدہ کے لیے قومی اتفاق رائے کی طاقت کے بجائے پی ٹی آئی کی کمزور و لاغر آواز کے ساتھ جارہے ہیں ، ہم پھر بھی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں ۔لیاقت بلوچ نے تجویز پیش کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیو ں کے ذریعے سے پاکستان کی سفارتکاری کو بہترین طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔