ـ7برس بعد بھی پولیس ڈاکٹر پرویز محمود کے قاتلوں کو سزادلوانے میں ناکام

92

کراچی (رپورٹ/محمد علی فاروق )جماعت اسلامی کے رہنما وسابق ٹاؤن ناظم لیاقت آباد ڈاکٹر پرویز محمود کی شہادت کو 7 سال گزرجانے کے باوجود پولیس اصل قاتلوں کو سزا دلوانے میں ناکام ہے،بلند و بانگ دعووں کے بعد شہادت میں ملوث ایم کیو ایم کے دہشت گردو ں کو گرفتار تو کیا گیا لیکن ناقص پراسیکیوشن کے باعث تمام ملزمان عدالت سے بری ہوگئے ۔ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹرپرویز محمود کو ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی کی ہدایت پر شہید کیا گیا تھا ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں 7 سال قبل شہر میں دہشت گردی کے سامنے کھڑے ہونے والے جماعت اسلامی کے سابق ٹاؤن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود کو17ستمبر2012ء کو نارتھ ناظم آباد میں کے ڈی اے چورنگی پر ان کے ساتھی خلیق اللہ کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا ۔2018ء میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل کا معمہ حل ہوگیا ہے اور ٹارگٹ کلر قانون کی گرفت میں آگیا ہے۔ پولیس کے دعویٰ کے مطابق تفتیش میں ٹارگٹ کلر مسعود علی عرف کالا نے بتایا کہ ڈاکٹر پرویز محمود کو کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی کے کہنے پر کے ڈی اے چورنگی کے قریب نشانہ بنایا،ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں عمران اعجاز نیازی، طاہر قادیانی، زبیر عرف پپا، عبد الرحمان قریشی ، جوائنٹ سیکٹر انچارج ریحان، آصف آلٹو، فیضان الیاس، سمیر نائی اور شکیل موٹا شامل تھے۔دوران سماعت پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سابق ٹاو ن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل میں شامل اور مفرور تھا جبکہ کنور عمران نے اسلحہ اور بارود اکھٹا کر کے ٹارگٹ کلنگ ٹیم کو فراہم کیا ۔تاہم پولیس اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی اور ناقص پراسیکیوشن کے باعث کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 16 نے ملزمان مسعود عرف کالا، آصف عرف آلٹو، بابر عرف موٹا کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔ذرائع کے مطابق پولیس نے اس کیس کی جڑ میں پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی روایتی طور پر ملزمان کو گرفتار کرکے بغیر کسی تیاری کے چالان عدالت میں پیش کردیا ،جس کی وجہ سے ملزمان کو فائدہ پہنچا۔ ڈاکٹرپرویز محمود نے ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے خلاف بلاخوف آواز اٹھاتے تھے اورقائد ایم کیو ایم کے جرائم کی داستان دنیا تک پہنچاتے تھے ،بانی متحدہ کی سالگرہ پر ’’تحفہ‘‘ دینے کے لیے پارٹی کے دہشت گردوں نے کراچی کے لیے اٹھنے والی اس آواز کو ہمیشہ خاموش کرادیا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل،سانحہ بلدیہ فیکٹری اور دہشت گردی کی دیگرواقعات کے ماسٹر مائنڈحماد صدیقی کی گرفتاری اور وطن واپسی کے لیے تاحال کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے ۔