ایران میں 400 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کے اثرات عالمگیر ہوں گے، میاں زاہد

521
چائنا کے قومی دن کی مشترکہ تقریب میں چینی سفیر ، ایف پی سی سی آئی کے صدر داروخان و دیگر کا گروپ فوٹو
چائنا کے قومی دن کی مشترکہ تقریب میں چینی سفیر ، ایف پی سی سی آئی کے صدر داروخان و دیگر کا گروپ فوٹو

 

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے ایران کے توانائی، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں410 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے فیصلے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے جبکہ اس سے امریکا اور چین کے مابین جاری مسا بقت میں اضافہ ہو گا۔ اس فیصلے سے ایران کی معیشت مضبوط اور علاقائی و عالمی اثر رسوخ میں اضافہ ہو گا جبکہ چین کی معیشت محفوظ اور عرب ممالک کی پریشانی بڑھے گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے چین کے خلاف تجارت اورٹیکنالوجی سمیت مختلف محاذگرم کر رکھے ہیں جبکہ چین کو تیل سپلائی کرنے والے ممالک امریکا کے زیر اثر ہیں جو بیجنگ کے لیے پریشانی کا سبب ہے کیونکہ اسکی تیل کی سپلائی کسی بھی وقت روکی جا سکتی ہے۔اس معاہدے کے بعد چین ایران سے تیل اور گیس کی کل پیداوار خرید سکے گا بلکہ اگر ایران پیداوار دگنی بھی کر دے تو اسے بھی چین ہی خرید لے گا اور اسے بھارت سمیت کسی ملک کی ضرورت نہیں رہے گی۔چین ایرانی گیس کے لیے نئی پائپ لائنیں بھی بچھا سکتا ہے جبکہ چاہ بہار کی بندرگاہ کے ذریعے اپنا سامان تجارت یورپ بھجوا سکے گا۔اس بندرگارہ میں بھارت نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو اب چین کے کام آئے گی جبکہ چین یہاں اپنی بحریہ کے لیے مستقر بھی بنا سکتا ہے۔ایران کے اثرو رسوخ میں اضافے سے پاکستان، یمن ،شام، لبنان، ترکی، افغانستان اور کئی دیگر ممالک کی صورتحال پر بھی اثر پڑے گاجبکہ اسرائیل کے مسائل بڑھ جائیں گے جبکہ افغان طالبان کا رویہ امریکا سے مزید سخت ہو جائے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ کئی اقتصا دی ماہرین اس معاہدے کو سی پیک کا متبادل قرار دے رہے ہیں جوچین کے خیال میں امریکہ، عرب ممالک اور بھارت کی مداخلت سے پاک ہو گا جس سے خطے میں بھارتی بالادستی کا خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہوجائے گا۔اگر پاکستان نے آئی ایم ایف سے امدا د کے حصول کے لیے سی پیک کے معا ملے میں چین کے ساتھ سرد مہری کا رویہ نہ رکھا ہوتا بلکہ چین سے اقتصا دی تعلقات مز ید بہتر کیے جاتے تویہ بھاری سرما یہ کاری پاکستان میں لائی جا سکتی تھی ۔