امریکا نے بھارت کی مدد کیوں کی

349

 

جاوید الرحمن ترابی

امریکا افغانستان میں جنگ بندی چاہتا اور نہ ہی وہ یہاں سے نکلنا چاہتا ہے، مذاکرات کا مقصد وقت حاصل کرنا ہے تاکہ مذاکرات کی آڑ میں امن کے ماحول میں مستقبل کی سیاسی حکمت تیار کی جاسکے، امریکا کو محدود ہی سہی افغانستان میں اپنے عسکری اڈے قائم رکھنے کی سہولت ابھی تک میسر ہے۔ طالبان تو امن مذاکرات کے لیے اس لیے بیٹھے تھے تاکہ امریکا دنیا کو یہ کہہ کر گمراہ نہ کر سکے کہ افغان طالبان کسی طور امن کے حامی ہی نہیں ہیں دوحا میں مذاکرات کے ذریعے افغان طالبان نے امریکا کا یہ شوق بھی پورا کر دیا امریکا ابھی تک اپنے دو اہم مقاصد پورے نہیں کرسکا وہ افغان طالبان پر بذریعہ پاکستان دباؤ ڈلوانا چاہتا ہے کہ امریکی شرائط تسلیم کرلی جائیں لیکن یہ ممکن نہیں اسلام آباد کو دبائو میں رکھنے کے لیے امریکا نے مودی کو تھپکی دی تھی کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ایک طرف رکھ کر مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرجائے امریکا کا یہ دوسرا حربہ مودی کے گلے کا کانٹا بن گیا بات بھارت امریکا اور اسرائیل ٹرائیکا کے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ ٹرمپ نے افغان امن مذاکرات کی معطلی کا اعلان عین اسی دن کیا جس دن اسلام آباد میں سہہ فریقی کانفرنس ہوئی جس میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرا خارجہ شریک ہوئے اور معاشی منصوبہ بندی پر اتفاق ہوا تھا سہہ فریقی مذاکرات کے تیسرے دور میں چین نے سی پیک کا دائرہ افغانستان تک بڑھانے کا منصوبہ پیش کر دیا تھا پاکستان اور افغانستان کے وزرا خارجہ کے ساتھ ملاقات میں چینی ہم منصب وانگ ژی نے پاک افغان سرحد پر کولڈ اسٹوریج، پانی کی سپلائی، طبی مراکز اور امیگریشن کے مراکز کے قیام میں پاکستان کی مدد کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر امن معاہدے کے مطابق کام تیز کرنے کے خیال کا اظہار شامل تھا۔ تینوں ممالک نے اکتوبر کے مہینے سے سفارت کاروں کے تربیتی پروگرام کے ساتھ ساتھ سیکورٹی، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
چین افغانستان کو سی پیک کے منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے تجارتی راہداری دنیا تک تجارتی رسوخ کے بعد افغانستان کے اس منصوبے میں آجانے وسطی ایشیا سے ہوتی ہوئی روس اور وہاں سے مشرقی یورپ تک دراز ہو جائے گی، اسی بنیاد پر چین افغان طالبان اور اشرف غنی حکومت کے درمیان پر امن مذاکرات کا حامی ہے لیکن امریکا کو خطے میں امن منظور ہی نہیں ہے اور اس جانب ہم کئی ماہ سے مسلسل اشارہ کیے جارہے ہیں کہ امریکا کی صہیونی دجالی اسٹیبلشمنٹ کسی طور بھی خطے کی پرامن صورتحال سے چین اور پاکستان کو مستفید نہیں ہونے دے گی۔ ایک عجیب بات ہے کہ امریکا اب تک اپنے اور اپنے اتحادیوں کے ہزاروں فوجی افغانستان میں مروا چکا ہے اس وقت اسے اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ جن افغان طالبان کے ساتھ وہ قیام امن کے لیے مذاکرات کر رہا ہے انہیں کے ہاتھوں امریکا اور ناٹو کے فوجی مارے گئے ہیں تو اس نے امن مذاکرات معطل کردیے ہیں یہ مضحکہ خیز صورتحال ہے افغانستان کی جنگ امریکا کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے تقریباً اسی ارب ڈالرکی سالانہ منفعت کا سبب ہے اس لیے افغانستان سے نکلنے کا مینڈیٹ نہیں دیا جارہا۔ ایک امریکی جرید ے میں امریکا کے پہلے دس با اختیار ترین اشخاص کی فہرست دیکھی تھی جس میں سب اوپر یعنی پہلا نمبر جیرالڈ کوشنر کا تھا وہ بغیر کسی حکومتی عہدے کے پہلے نمبر پر تھا جبکہ امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ساتویں نمبر پر تھا کوشنر نے مشرق وسطیٰ میں آگ لگانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، امریکی صدر سے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح کر وایا، اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ ایم فرائڈ مین سے مسجد اقصیٰ کی بنیاد میں سے پتھر نکلوا کر اس بات کا افتتاح کروایا کہ یہاں مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے یہاں یہودیوں کا ’’ہیکل سلیمانی‘‘ تعمیر کیا جائے گا جس کی پلاننگ کئی برس قبل ہی مکمل کر لی گئی تھی۔
سی آئی اے اور پینٹا گون یعنی امریکا کی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کے ان دو بڑے مہروں کا کھیل افغانستان میں اس وقت زیادہ خطر ناک نظر آتا ہے یہ خبر بھی آئی تھی کہ ’’بلیک واٹر‘‘ کے مالک ایرک پرنس نے امریکی حکومت کو پیش کش کی تھی کہ افغانستان سے سرکاری فوجیں نکال کر اس کی جگہ اس کی تنظیم بلیک واٹر کو افغانستان کا ’’جنگی ٹھیکہ‘‘ دے دیا جائے جو امریکی خزانے پر کم بوجھ ثابت ہو گا حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے پاس خطے میں اس وقت سنہری موقع تھا کہ وہ کسی حد تک عزت بچا کر خطے سے نکل جائے لیکن لگتا ہے عزت امریکا کی قسمت میں نہیں جو حال اس کا ویت نام، کوریا اور صومالیہ میں ہوا تھا اس سے بد تر حال افغانستان میں ہونے جا رہا ہے۔