سیاسی بددیانتی!

203

 

 

صدر مملکت ڈینٹل سرجن عارف علوی نے کہا ہے کہ کشمیری ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں، بھارت ظلم و ستم کے ہتھکنڈوں سے ان کی آزادی کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خوف ہراس کی تخم ریزی نہ کرے کیوں کہ خوف و ہراس کی فصل کاشت کرنے والوں کو دہشت گردی کی آندھی نیست و نابود کردیتی ہے۔ سابق گورنر پنجاب ذوالفقار کھوسہ نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں کشمیری آزادی کی جنگ لـڑ رہے ہیں ہمیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ یہی وقت کی آواز ہے اور یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔ کشمیر کی آزادی کے معاملے میں کسی مصلحت کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے اس کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ حکومت اور سیاسی اکابرین تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس مسئلے کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا کہ ایسا کرنا سیاسی بد دیانتی ہے۔
وزیر خرجہ شاہ محمود قریشی کا ارشاد گرامی ہے کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں آواز اٹھائیں گے اور دنیا پر ثابت کردیں گے کہ نریندر مودی نئے دور کا ہٹلر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کوئی مثبت قدم اٹھانے کے بجائے صرف زبان ہلائی ہے۔ قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی اکابرین اور حکمران اس حقیقت کے معترف ہیں کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے تو پھر… کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کیوں لگوائے جارہے ہیں؟۔ حیرت ہے سیاسی اکابرین اور حکمرانوں کی سمجھ میں اتنی سی بات کیوں نہیں آتی کہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ کشمیر کی جنگ آزادی لڑنے والوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کی لاشعوری کوشش ہے۔ ایسے معاملات پر کشمیر کو حق آزادی ملنے کے بعد سوچا جاسکتا ہے۔ یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ سیاستدان قومی مسائل کو سمجھنے کے اہل ہی نہیں انہوں نے کشمیر پالیسی کا اطلاق بہاولپور صوبے کے مسئلے پر بھی کر رکھا ہے۔ بہاولپور ایک خود مختار اور اقتصادی اعتبار سے بہت مستحکم ریاست تھی۔ 1954ء کے آخر میں پاکستان سے الحاق کرلیا تھا۔ 1955ء میں صوبوں کو ختم کرکے ون یونٹ بنایا گیا تو ریاست بہاولپور کو بھی اس کا حصہ بنادیا گیا مگر جب ون یونٹ کی ضرورت نہ رہی تو بہاولپور کو پنجاب کی بوسیدہ جھولی میں ڈال دیا گیا جو سراسر بد دیانتی اور پنجاب پروری پر مبنی تھا۔ گویا ون یونٹ کا ڈراما بہاولپور کو ہڑپ کرنے کے لیے رچایا گیا تھا۔ آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ کشمیر خود مختار ہوگا نہ بہاولپور صوبہ بنے گا۔
بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے جسے عرب امارات نے نظر انداز کرکے نریندر مودی کو سول ایواراڈ سے نواز کر مودی کی کشمیر پالیسی پر کشمیریوں کے محضر نامے پر دستخط کردیے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب عرب ممالک مودی کو پسندیدہ اور محترم شخصیت قرار دیں گے تو دنیا کے دیگر ممالک ہمارا ساتھ کیوں دیں گے۔ بھارت مار بھی رہا ہے اور رو بھی رہا ہے اور ہم ’’اب کے مار‘‘ کی رٹ لگا رہے ہیں۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اظہار عذاب بن سکتا ہے۔ بھٹو مرحوم کی حکومت تھی، ہماری ڈیوٹی رحیم یار خان میں تھی، ہمارے ساتھ ناٹک نسیم بٹ کشمیری بھی تھا۔ کشمیر کا ذکر ہوا تو سبھی نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا، ان کے جذبات اور خیالات قابل قدر تھے، داد و تحسین کے مستحق تھے مگر نسیم بٹ کو سخت اختلاف تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کشمیر صرف خود مختار کشمیر بنے گا۔ ہم نے پوچھا آپ کو پاکستان سے کیا شکایت ہے ہم تفصیل بتا کر اپنے کالم کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنا نہیں چاہتے بس! اتنا ہی بتا سکتے ہیں کہ اس کا جواب بڑا شرمناک تھا اس نے کہا تھا کہ عرب حکمران جس قیمت پر رحیم یار خان میں ترقیاتی کام کررہے ہیں اس قیمت پر تو کوئی بھی صاحب ثروت کرسکتا ہے۔ وہ کیا کہنا چاہتا تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس نے کیا کچھ نہیں کہا۔ اس نے ہمارے منہ پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ جن کا مطالعہ وسیع ہے اور جو وطن عزیز کی تاریخ اور سیاست دانوں کی خصلت سے واقف ہیں وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ نسیم بٹ کشمیری نے کیا کہا تھا اور کیوں کہا تھا؟۔