قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

132

 

یکسْو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اْچک لے جائیں گے یا ہوا اْس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اْس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ تمہیں ایک وقت مقرر تک اْن (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر اْن (کے قربان کرنے) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اْس امّت کے لوگ) اْن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اْس نے اْن کو بخشے ہیں (اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے) پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اْسی کے تم مطیع فرمان بنو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے عاجزانہ رَوش اختیار کرنے والوں کو۔ (سورۃ الحج:31تا34)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریمؐ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کی کہ دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے جبے ہاتھ، سینہ اور حلق تک پہنے ہوئے ہیں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ (صحیح بخاری)