سعودی عرب پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے تیار ہیں،ٹرمپ

88

واشنگٹن،ماسکو(خبر ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حملے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے باعث امریکی ایندھن کے ذخائر سے تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تیل کی مقدار کا تعین مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، مارکیٹ میں تیل کی وافر مقدار موجود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی سپلائی پر حملہ کیا گیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ ان حملوں میں کون ملوث ہے جس کی تصدیق کرنے کے بعد ہم نے اس پر حملے کے لیے نشانہ بھی باندھ لیا ہے اور کارروائی کے لیے مکمل تیار ہیں لیکن ہم سعودی عرب کے منتظر ہیں کہ وہ کسے اپنی تیل سپلائی پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، اور یہ کہ کن اصول و شرائط پر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔علاوہ ازیں امریکا نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایران پر سعودی آئل فیلڈز حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا نے انٹیلی جنس سے کچھ سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جن کی بناء پر سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے پیچھے ایران کو ملوث ٹھہرایا گیا ہے۔تاہم ایران نے گزشتہ روز سعودی آئل فیلڈز پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی تھی ۔امریکی حکام نے بتایا کہ حملوں کی سمت مغرب اور شمال مغرب کی طرف سے تھی اور ان کے اثرات 19 پوائنٹس پر پڑے جب کہ یہ علاقہ یمن میں حوثی باغیوں کے کنٹرول میں نہیں ہے۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ وہ حملوں کا مقام شمالی مشرقی وسطیٰ، ایران یا عراق کو ٹھہرا سکتے ہیں تاہم عراق کی جانب سے حملوں میں اس کی زمین استعمال ہونے کی تردید کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ اس کا ذمہ دار ایران ہے۔دریں اثناء یمن کے معاملے پر سعودی عرب کی سربراہی میں بنائے گئے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی دو آئل فیلڈز پر ہونے والے حملے میں ایرانی ہتھیار کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔کرنل ترکی المالکی کا جدہ میں پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئل فیلڈز پر ڈرون حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملے یمن کی سرزمین سے نہیں ہوئے جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی، مزید تحقیقات کی جارہی ہیں کہ یہ حملہ کہاں سے کیا گیا۔ترکی المالکی نے کہا کہ جلد یہ بات میڈیا کے سامنے لائی جائے گی کہ ڈرونز کو کہاں سے حملے کیلیے بھیجا گیا۔ دوسری جانب روس نے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رہنے کی تلقین کردی۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے اور باہر کے ممالک کو کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں غیر تعمیری اقدامات کشیدگی بڑھائیں گے۔ واشنگٹن کی ایران کیخلاف سخت کارروائی کی تجاویز ناقابل قبول ہیں۔ جبکہ چین نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات کے معاملے پر امریکا اور ایران کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جامع تحقیقات کے بغیر الزام عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے اور چین کشیدگی کو بڑھانے والے تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔